کانگریس ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد مضبوطی کے ساتھ جاری رکھے گی: وینوگوپال

کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ملک میں نظامِ امتحان انتہائی خراب ہو چکا ہے اور اس کی ساکھ تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جس انداز سے امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں، اس سے طلبا کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کے سی وینوگوپال، ویڈیو گریب</p></div>
i

کانگریس نے آج مرکزی حکومت اور بی جے پی پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے، انتخابی عمل میں مداخلت، اپوزیشن کو نشانہ بنانے اور آئینی اقدار کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کیے۔ پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کولکاتا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا بلکہ ی بھی کہا کہ کانگریس ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد مضبوطی کے ساتھ جاری رکھے گی۔

کے سی وینگوپال نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی) کا مقصد انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی تطہیر کرنا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عام شہریوں کے حق رائے دہی کا تحفظ کرے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرائے اور ہر اہل شہری کو ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرے۔ اس کے باوجود 27 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرست سے حذف کر دیے گئے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔


کے سی وینوگوپال کا کہنا ہے کہ انہوں نے راجاگوپال نامی ایک شخص سے ملاقات کی، جسے ایس آئی آر کے عمل کی وجہ سے پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ راجاگوپال کی بیٹی کی شادی امریکہ میں تھی، جس کے لیے انہوں نے اپنے پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست دی، لیکن انہیں یہ کہہ کر منع کر دیا گیا کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجاگوپال کوئی غیر ملکی یا بے شناخت شخص نہیں، نہ ہی ان کا سری لنکا میں ووٹ ہے، بلکہ وہ گزشتہ 30 سے 40 برس سے ہندوستان میں مقیم ہیں۔ کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ جب 27 لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہوں تو موجودہ حکومت کو جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کیسے کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جمہوری مینڈیٹ نہیں بلکہ ’چوری شدہ انتخاب‘ ہے۔

اسٹریٹ وینڈرز کے معاملے پر کے سی وینگوپال نے کہا کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر کاروبار کر رہا ہو تب بھی اسے ہٹانے کے لیے ایک قانونی اور شفاف طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ پہلے نوٹس دیا جانا چاہیے، پھر کارروائی کی وجوہات بتائی جانی چاہئیں، لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت نے اسٹریٹ وینڈرز کو حقوق فراہم کرنے کے لیے ملک کے بڑے پروگراموں میں سے ایک شروع کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت ان تمام اقدامات کو ختم کر رہی ہے۔


ایودھیا رام مندر کے حوالے سے مبینہ چندہ خرد برد کے معاملے پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ برسوں تک بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاست ہندو۔مسلم پولرائزیشن، ایودھیا اور رام مندر کے گرد گھومتی رہی، لیکن آج جب مندر کے چندے کے غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں تو وہ خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی خود کو ہندو دھرم کی نمائندہ پارٹی قرار دیتی ہے تو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہئیں اور ایودھیا مندر ٹرسٹ کے معاملے میں کھل کر اپنی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے ملک کے تعلیمی نظام پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امتحان کا نظام انتہائی خراب ہو چکا ہے اور اس کی ساکھ تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جس انداز سے امتحانات منعقد کیے جا رہے ہیں، اس سے طلبا کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ جمہوریت اور صحافت سے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جمہوریت کو مذاق بنا دینا چاہتی ہے۔ اگر جمہوریت کمزور ہو جائے تو صحافت کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف آوازوں کو دبایا جائے اور اختلاف رائے کو خاموش کر دیا جائے تو پھر صحافت کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔


پریس کانفرنس میں کانگریس جنرل سکریٹری نے اس معاملے میں بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں، جن میں سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور محکمہ انکم ٹیکس شامل ہیں، اب اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈران اچانک اپنی پارٹی چھوڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہیں اور پھر بی جے پی ان کے خلاف تمام الزامات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کی جمہوریت کے لیے نہایت تشویش ناک ہے اور کانگریس ان تمام قوتوں کے خلاف اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی، جب تک ملک میں جمہوری اور آئینی اقدار پوری طرح بحال نہیں ہو جاتیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی جمہوریت خطرے میں ہوگی، کانگریس وہاں اس کے تحفظ کے لیے موجود ہوگی۔ بی جے پی ملک کے آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن تمام جمہوری قوتیں متحد ہو کر ان اداروں اور آئین کا تحفظ کریں گی۔

کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ملک میں یہ رجحان بارہا دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی کسی بدعنوان شخص کی بی جے پی میں شمولیت ہوتی ہے، اس کے خلاف تمام مقدمات اور الزامات ختم ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کی آمریت کا انجام ہمیشہ افسوس ناک ہوتا ہے اور ہندوستان بھی ایک دن اس انجام کا مشاہدہ کرے گا۔


دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ پارلیمنٹ کا رکن ہونے کے ساتھ اگر کوئی شخص وزیر بھی ہو تو اسے ایوان میں غلط بیانی کا کوئی حق نہیں۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران کوئی اہلکار شہید نہیں ہوا، جبکہ حکومت نے خود بعد میں 6 اہلکاروں کے نام جاری کیے۔ یہ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی معاملے پر انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کے سامنے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی (پریولیج موشن) کی تحریک پیش کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔