ہندوستان-آسٹریلیا کے درمیان دفاع، سیکورٹی، تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں ہوئے اہم معاہدے

وزیر اعظم مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں آسٹریلوی پی ایم البانیز نے کہا کہ ’’ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ ہم مسلسل مضبوط ہوتے رہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی اپنے آسٹریلوی ہم منصب&nbsp;اینتھنی البانیز کے ساتھ، تصویر&nbsp;@narendramodi</p></div>
i

وزیراعظم نریندر مودی اس وقت آسٹریلیا دورے پر ہیں۔ آج میلبورن میں آسٹریلوی وزیراعظم اینتھنی البانیز سے ملاقات کی اور وفد کی سطح پر مذاکرات کیے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی اور نیوکلیئر انرجی سے لے کر سرمایہ کاری جیسے کئی مسائل پر بات کی۔ انہوں  نے کہا کہ ’’دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، اس لیے دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی بھی مشترکہ ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہمارا عزم بھی اٹوٹ ہے اور ہمارا تعاون بھی مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کشیدگی اور جنگوں کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔ پورے انڈو پیسیفک خطے میں ہم مل کر امن، استحکام، نقل و حرکت کی آزادی اور قوانین پر مبنی نظام کو مزید مضبوط کریں گے۔


وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ ہندوستانی نژاد لوگ آسٹریلیا کی اقتصادی اور سماجی زندگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا ہندوستانی طلبہ کے لیے پسندیدہ منزل رہا ہے۔ ہندوستان میں آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے کیمپس کھلنے سے ہماری علمی شراکت داری میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان طلبہ، پروفیشنلز اور سیاحوں کے درمیان تبادلوں کو بڑھانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی نے سائبر اور اہم معدنیات کے تعاون پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری توانائی کے شعبے میں بھی اہم معاہدہ طے پایا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں البانیز نے کہا کہ ’’ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا اور وسیع بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ ہم مسلسل مضبوط ہوتے رہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم نے اپنے تعلقات کے ہر پہلو میں بالکل یہی کیا ہے۔ نئے اہم معاہدوں کے ذریعے ہم دفاع اور سیکورٹی، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور توانائی کی حفاظت اور اہم معدنیات کے شعبوں میں اپنے تعلقات کو بڑھا رہے ہیں۔ وزیراعظم مودی اور میں نے اپنی عملی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے دفاع اور سیکورٹی تعاون پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔


واضح رہے کہ ہندوستان اور آسٹریلیا نے جمعرات کو یورینیم کی سپلائی کے ایک اہم معاہدے اور دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کے منصوبے پر اتفاق کیا۔ انڈو پیسیفک خطے میں سیکورٹی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان دونوں ممالک اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے سویلین نیوکلیئر پاور سیکٹر کے لیے آسٹریلیا سے یورینیم ایکسپورٹ کا راستہ کھولتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے۔ دونوں ممالک نے 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے کچھ ہی عرصے بعد نیوکلیئر تعاون کے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں انڈو پیسیفک خطے میں قوانین پر مبنی نظام، ہر ملک کی خودمختاری کے احترام اور سمندری سیکورٹی پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان باقاعدہ بات چیت اور اسٹریٹجک مشاورت کو بڑھایا جائے گا۔ دونوں ممالک کی افواج کے مابین بہتر تال میل اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط کیا جائے گا۔ ایک دوسرے کے ملک میں فوجی طیاروں کی تعیناتی بڑھائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان تربیت، تعلیم، تبادلوں اور رابطہ کاری کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔