جنسی ہراسانی اور ہتک عزت معاملے میں ٹرمپ کو دھچکا، ادا کرنے ہوں گے 58 لاکھ امریکی ڈالر
جیوری نے تسلیم کیا تھا کہ ٹرمپ نے 1996 میں ’مین ہیٹن‘ کے ایک لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ٹرائل روم میں مصنفہ ای جین کیرول کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جنسی ہراسانی اور ہتکِ عزت کے مقدمے میں بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ ایک وفاقی جج نے بدھ کے روز حکم دیا کہ مصنفہ ای جین کیرول کو 58 لاکھ امریکی ڈالر کی وہ رقم جاری کی جائے، جو سال 2023 میں جیوری کے فیصلے کے بعد ایسکرو اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ ٹرمپ کے وکلا نے فوری طور پر اس حکم کے خلاف اپیل دائر کر دی، تاہم ادائیگی پر روک لگانے کی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ جیوری کے 2023 کے فیصلے کے فوراً بعد ٹرمپ نے یہ رقم ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں جمع کرا دی تھی۔ حال ہی میں امریکی سپریم کورٹ نے بھی نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد وفاقی جج لوئس اے کیپلن نے یہ رقم جاری کرنے کی راہ ہموار کر دی۔ ابتدائی طور پر 50 لاکھ امریکی ڈالر کی معاوضہ کی رقم پر سود شامل ہونے کے بعد یہ بڑھ کر تقریباً 58 لاکھ امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔
اس معاملہ میں جیوری نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے 1996 میں ’مین ہیٹن‘ کے ایک لگژری ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ٹرائل روم میں مصنفہ ای جین کیرول کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔ سال 2019 میں کیرول کی خودنوشت میں اس واقعے کا عوامی طور پر ذکر کیے جانے کے بعد ٹرمپ نے ان کے خلاف ہتک عزت پر مبنی بیانات دیے تھے۔ اس وقت ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت میں تھے۔ انہوں نے کیرول کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’وہ میری پسند کی خاتون نہیں ہیں۔‘‘ فیصلے کے بعد بدھ کے روز ٹرمپ کے وکلا نے کہا کہ وہ قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے مؤکل کے سیاسی مخالفین عدالتی نظام کو ان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ اپیل میں انہوں نے دلیل دی ہے کہ جج کیپلن کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے اس کے حالیہ فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ حالانکہ بدھ کی دیر رات امریکہ کی سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کی جج یونِس سی لی نے کیرول کو رقم کی ادائیگی روکنے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی۔ کیرول کے وکلا نے عدالت میں جمع کرائے گیے دستاویز میں کہا کہ ’’اب اس معاملے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے لکھا کہ کیرول گزشتہ 3 برس سے زیادہ عرصے سے جیوری کی جانب سے مقرر کردہ ہرجانے کی رقم کی منتظر ہیں۔ انہیں اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ اس مقدمے میں ٹرمپ خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ سماعت کے دوران کیرول نے گواہی دی تھی کہ ڈپارٹمنٹ اسٹور میں ٹرمپ سے ہونے والی ایک معمول کی اور دوستانہ ملاقات اچانک پرتشدد صورت اختیار کر گئی تھی۔
وہیں 82 برس کی ہو چکی کیرول کے بارے میں ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے کہ وہ انہیں جانتے تک نہیں تھے۔ انہوں نے کیرول پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے اپنی کتابوں کی فروخت بڑھانے اور سیاسی مقاصد کے تحت ان پر الزامات لگائے ہیں۔ کیرول نے ٹرمپ کے خلاف یہ مقدمہ اُس وقت دائر کیا تھا، جب نیویارک میں قانون میں ترمیم کر کے جنسی ہراسانی کے متاثرین کو کئی برس پرانے معاملات میں بھی مقدمہ دائر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ جج کیپلن نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ ’’ٹرمپ برسوں سے اس مقدمے کو طول دیتے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ منصفانہ طرز عمل اختیار کریں اور عدالت کی مقرر کردہ رقم ادا کریں۔‘‘ اس دوران ٹرمپ ایک دوسرے ہتک عزت کے مقدمے میں بھی کیرول کو دیے گئے 8 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کے ہرجانے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ یہ رقم سال 2024 میں مین ہیٹن کی ایک علیحدہ جیوری نے مقرر کی تھی، جس میں ٹرمپ نے مختصر طور پر عدالت میں گواہی بھی دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
