اب مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے لیے راستہ ہو رہا ہموار، غور و خوض کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان

بی جے پی رکن اسمبلی دیویانی نے ایوان میں کہا کہ خواتین پر مظالم روکنے کے مقصد سے مرکز نے 3 طلاق پر پابندی عائد کرنے والا قانون نافذ کیا ہے، اس کے باوجود مہاراشٹر میں اس قانون کا اثر دکھائی نہیں دے رہا

<div class="paragraphs"><p>یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی)، علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

مہاراشٹر اسمبلی میں آج بی جے پی رکن اسمبلی دیویانی فراندے کی جانب سے ضابطہ 105 کے تحت پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس پر مسلم خواتین کے تحفظ، 3 طلاق قانون کے نفاذ اور یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے موضوع پر بحث ہوئی۔ یعنی بی جے پی حکمراں ریاستوں کی طرح مہاراشٹر میں بھی یکساں سول کوڈ کے لیے راستہ ہموار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس معاملہ میں ایوان کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تیز و تند مباحثہ بھی دیکھنے کو ملا۔ بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش قدم نے کہا کہ ریاستی حکومت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں یک رکنی کمیٹی تشکیل دے گی۔

دوسری طرف دیویانی فراندے نے ایوان میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ خواتین پر مظالم کی روک تھام کے مقصد سے مرکزی حکومت نے 3 طلاق پر پابندی عائد کرنے والا قانون نافذ کیا ہے۔ اس کے باوجود مہاراشٹر میں اس قانون پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم مردوں کی جانب سے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے معاملات اور خواتین کو طلاق دینے کے لیے ان پر ظلم و ستم کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم خواتین پر ان کے شوہروں کی جانب سے جان لیوا حملوں کے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فراندے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلم خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، ایسے معاملات میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور اس مسئلے پر حکومت اپنا واضح مؤقف پیش کرے۔


اس مسئلے پر بحث کے آغاز میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے رکن اسمبلی جینت پاٹل نے توجہ دلاؤ نوٹس کی قابل سماعت حیثیت پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موضوع قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ تاہم اسمبلی اسپیکر نے ان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے بحث کی اجازت دے دی۔ دیویانی فراندے کی جانب سے یہ معاملہ اٹھائے جانے کے دوران رکن اسمبلی ثنا ملک نے بھی اعتراض درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ تعدد ازدواج اسلام میں جائز ہے، لیکن دیگر مذاہب میں بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے، پھر صرف مسلم برادری کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ اس مسئلے پر ایوان میں کچھ وقت کے لیے ہنگامہ آرائی بھی ہوئی اور اراکین کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ دیکھنے کو ملا۔

بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش قدم نے کہا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنے سے متعلق مطالعہ کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں یک رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کی کارروائی اور فیصلے کیے جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔