قومی خبریں

نیٹ پیپر لیک معاملہ پر مظاہرہ کرنے والے طالب علم کو مجسٹریٹ نے بھیجا نوٹس، چیف جسٹس سوریہ کانت کا اظہارِ ناراضگی

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ عدالت اس معاملے میں مجسٹریٹ سے وضاحت طلب کرے گی۔

<div class="paragraphs"><p>سی جے آئی سوریہ کانت / آئی اے این ایس</p></div>

سی جے آئی سوریہ کانت / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے نیٹ پیپر لیک سے متعلق احتجاج میں ایک طالب علم کو نوٹس جاری کیے جانے پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے اس معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت اس معاملے میں مجسٹریٹ سے وضاحت طلب کرے گی۔

دراصل ایک وکیل نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا سے متعلق معاملے کا ذکر سپریم کورٹ کے سامنے کیا۔ حقیقت جاننے کے بعد عدالت نے وکیل کی درخواست پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ مجسٹریٹ سے اس معاملے پر وضاحت طلب کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ یکم ستمبر کو سپریم کورٹ نے نیٹ احتجاج میں شامل طلبا کے خلاف درج تمام ایف آئی آر منسوخ کرنے کا تاریخی حکم سنایا تھا۔ اس کے باوجود گریٹر نوئیڈا کے ایک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے طالب علم کے خلاف ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کر دیا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق گوتم بدھ یونیورسٹی کے طالب علم اکشت ترپاٹھی کو گریٹر نوئیڈا پولیس کی جانب سے 5 لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ بھرنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ طالب علم نے دہلی کے جنتر منتر پر ہوئے احتجاج میں دیگر طلبا کو شامل ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کی تھی۔ یہ نوٹس 4 ستمبر کو گریٹر نوئیڈا کمشنریٹ کے تیسرے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے دفتر کی جانب سے ’بی این ایس ایس‘ کی دفعہ 130 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسسٹنٹ پولیس کمشنر کی سفارش پر دفعہ 126 اور 135 کے تحت یہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق بنیادی طور پر پریاگ راج کے جھونسی باشندہ ترپاٹھی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ طلبا کو احتجاج کے لیے اُکسا رہے تھے اور گمراہ کن و حکومت مخالف معلومات پھیلا رہے تھے، جس سے یونیورسٹی کیمپس میں امن و امان خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ نوٹس میں طالب علم سے پوچھا گیا تھا کہ کیوں نہ اسے 6 ماہ تک امن برقرار رکھنے کے لیے 5 لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے 2 مقامی ضامن پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

طالب علم اکشت ترپاٹھی نے پولیس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پرامن طریقے سے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ اس نے واضح کیا کہ احتجاج کے وقت یونیورسٹی 3 ماہ سے بند تھی، اس لیے کلاسز سے غیر حاضر رہنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی میں اسے چوٹ بھی آئی تھی۔

معاملہ طول پکڑنے اور قانونی رکاوٹوں کے بعد پولیس نے منگل کو واضح کیا کہ 4 ستمبر کو جاری کیا گیا نوٹس منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ایڈمنسٹریٹو حکام کے مطابق ’امن بانڈ نوٹس‘ صرف ایک احتیاطی قدم ہوتا ہے اور یہ کسی شخص کو قصوروار ٹھہرانا یا سزا دینا نہیں ہوتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔