ستیہ نکیتن حادثہ: ہاسٹل سے متعلق عرضی پر سماعت، دہلی ہائی کورٹ کا مرکز، ڈی یو اور دہلی حکومت سے جواب طلب

ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے بعد ڈی یو کے کالجوں میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت کے مطالبہ پر داخل کی گئی عرضی کے سلسلہ میں دہلی ہائی کورٹ نے مرکز، ڈی یو اور دہلی حکومت سے جواب طلب کیا ہے

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
i

نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں عمارت منہدم ہونے کے حادثے کے بعد دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کے کالجوں میں طلبہ کے لیے مناسب اور محفوظ ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کے مطالبے سے متعلق داخل کی گئی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر دہلی ہائی کورٹ نے مرکز، دہلی یونیورسٹی اور دہلی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے کی سماعت مرکزی مقدمے کے ساتھ کی جائے گی۔

دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی نئی پی آئی ایل میں متعلقہ حکام کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے زیر انتظام تمام کالجوں میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کی مناسب سہولت یقینی بنائی جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو محفوظ اور مناسب رہائش فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ انہیں غیر محفوظ نجی پیئنگ گیسٹ (پی جی) یا ہاسٹل میں رہنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔


اس سے قبل منگل کو ستیہ نکیتن حادثے کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں ’نیائے یاترا‘ کا انعقاد کیا۔ تنظیم نے حادثے میں جان گنوانے والے طلبہ کے لیے انصاف اور قومی دارالحکومت میں طلبہ کی رہائش گاہوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اے بی وی پی نے پی جی اور نجی ہاسٹل کے سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ عوامی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹ عوامی سطح پر دستیاب ہو تو طلبہ رہائش کا انتخاب کرتے وقت یہ جان سکیں گے کہ متعلقہ عمارت حفاظتی معیارات پر کس حد تک پوری اترتی ہے۔

تنظیم نے دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے مزید ہاسٹل تعمیر کرنے اور موجودہ سہولتوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اے بی وی پی کے مطابق یونیورسٹی میں ہاسٹل کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ کو نجی پی جی اور دیگر کرائے کی رہائش گاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اے بی وی پی نے تمام ہاسٹل اور پی جی عمارتوں کی باقاعدہ حفاظتی جانچ اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف بروقت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے پہلے ہی حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جانے چاہئیں۔


واضح رہے کہ 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں ایک عمارت منہدم ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد این ڈی آر ایف، دہلی پولیس، فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے مشترکہ طور پر راحت اور بچاؤ کا آپریشن چلایا۔ ملبے سے متعدد افراد کو نکال کر اسپتال پہنچایا گیا۔ اس حادثے میں اب تک 7 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔