امریکہ میں ملا یکطرفہ طلاق کا فیصلہ ہندوستان میں قابلِ قبول نہیں، دہلی کی ایک عدالت کا اہم فیصلہ

فیملی کورٹ نے کہا کہ امریکی عدالت سے یکطرفہ طلاق کا فیصلہ ہندوستان میں خودکار طور پر نافذ نہیں ہوگا، اگر متاثرہ فریق کو سماعت کا موقع نہ ملا ہو اور طلاق کی بنیاد ہندوستانی قانون میں تسلیم شدہ نہ ہو

<div class="paragraphs"><p>عدالتی فیصلہ، علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی کے ساکیت میں واقع فیملی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کی عدالت سے سنایا کیا گیا طلاق کا فیصلہ ہندوستان میں خود بخود قابلِ قبول یا نافذ نہیں ہو جاتا۔ اے بی پی نیوز پر شائع خبر کے مطابق، عدالت نے کہا کہ اگر کسی غیر ملکی عدالت نے یکطرفہ کارروائی کے دوران طلاق دی ہو اور ہندوستانی شوہر یا بیوی کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہ ملا ہو تو ایسے فیصلے کو ہندوستانی عدالتوں میں حتمی اور قابلِ نفاذ نہیں مانا جا سکتا۔

فیملی کورٹ کی جج پوروا سرین نے یہ فیصلہ ایک ایسے معاملے میں سنایا، جس میں بیوی نے امریکہ کی ریاست میسوری کے سینٹ لوئس کاؤنٹی کے فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ امریکی عدالت نے شوہر کی غیر موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے شادی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ طلاق کی بنیاد یہ بتائی گئی تھی کہ میاں بیوی کا رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

ساکیت کورٹ نے واضح کیا کہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت صرف شادی کے مکمل طور پر ٹوٹ جانے کو طلاق کی براہِ راست قانونی بنیاد تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہندوستانی قانون میں ظلم، زنا اور ترکِ رفاقت جیسے مخصوص اسباب کے علاوہ باہمی رضامندی سے طلاق کا راستہ بھی موجود ہے، لیکن ’شادی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے‘ کی بنیاد پر عام فیملی کورٹ طلاق نہیں دے سکتی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت مکمل انصاف کے لیے خصوصی اختیارات حاصل ہیں، جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ مخصوص حالات میں شادی ختم کر سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماتحت عدالتیں بھی اسی بنیاد کو عام طلاق کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔


معاملے کے مطابق، جوڑے نے 20 دسمبر 2015 کو ساکیت میں واقع آریہ سماج مندر میں شادی کی تھی، جس کا بعد میں ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں اندراج بھی کرایا گیا۔ بعد میں دونوں کے درمیان مزاج اور نظریاتی اختلافات پیدا ہوئے اور ازدواجی تنازعہ بڑھتا گیا۔ اسی دوران بیوی امریکہ چلی گئی اور وہاں طلاق، بچے کی تحویل اور نان و نفقہ کے لیے کارروائی شروع کی۔

دوسری جانب شوہر نے ہندوستان میں فیملی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ازدواجی حقوق کی بحالی کی درخواست دائر کی۔ اس نے عدالت سے بیوی کو دوبارہ ازدواجی گھر واپس آنے اور اس کے ساتھ رہنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔ بعد میں عدالت کو بتایا گیا کہ بیوی امریکی عدالت سے یکطرفہ طلاق حاصل کر چکی ہے۔

شوہر نے موقف اختیار کیا کہ اس نے امریکی کارروائی رکوانے کے لیے ہندوستان میں اس وقت درخواست دائر کی تھی جب امریکی عدالت نے ابھی طلاق کا فیصلہ نہیں سنایا تھا۔ اس لیے بعد میں آنے والا غیر ملکی فیصلہ اس کی ہندوستانی درخواست میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

ساکیت فیملی کورٹ نے غیر ملکی فیصلے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سی پی سی کی دفعات 13 اور 14 غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کو ہندوستان میں تسلیم کرنے سے متعلق شرائط طے کرتی ہیں۔ موجودہ معاملے میں امریکی عدالت کی کارروائی یکطرفہ تھی اور شوہر کو اپنا دفاع کرنے اور اپنا موقف رکھنے کا مناسب موقع نہیں ملا۔


عدالت نے قرار دیا کہ امریکی طلاق کا فیصلہ نہ تو مدعا علیہ کو مناسب سماعت کا موقع دینے کے اصول پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد ہندوستانی قانون کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ لہٰذا یہ فیصلہ سی پی سی کی دفعہ 13 میں بیان کردہ استثنائی صورتوں کے دائرے میں آتا ہے اور ہندوستان میں اسے حتمی یا قابلِ نفاذ نہیں مانا جا سکتا۔

عدالت نے شوہر کو ہندوستان میں اپنی ازدواجی حقوق کی بحالی کی درخواست یا قانون کے تحت کوئی دوسری مناسب درخواست جاری رکھنے کی آزادی بھی دی۔ فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ صرف کسی غیر ملکی عدالت کا طلاق کا حکم حاصل کر لینا کافی نہیں، ہندوستان میں اس کی قانونی حیثیت اس بات پر بھی منحصر ہوگی کہ فیصلہ ہندوستانی قانون اور قدرتی انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق دیا گیا ہے یا نہیں۔