’کچھ تو شرم رکھیے‘، تقریر کے درمیان چین کے پیغام سے فلپائن کے قومی محکمہ دفاع کے سکریٹری ہوئے خفا
ٹیودورو نے چین کے پیغام پر کہا کہ ’’کسی بین الاقوامی اسٹیج پر اس طرح کسی ملک سے مہذب طریقے سے کیسے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ اس قدم سے کانفرنس کے منتظمین اور جنوبی کوریا کی بھی توہین ہوئی ہے۔‘‘

جنوبی کوریا کی راجدھانی سیول میں دفاع سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس چل رہا تھا۔ فلپائن کے قومی محکمہ دفاع کے سکریٹری گلبرٹ ٹیودورو وہاں تقریر کر رہے تھے، اسی وقت ایک شخص ان کے پیچھے سے آیا اور ان کی میز پر ایک کاغذ رکھ دیا۔ یہ کوئی عام پیغام نہیں تھا، اس میں چین نے بحیرہ جنوبی چین کے متعلق اپنا موقف لکھا تھا۔ سب سے حیرت کی بات یہ رہی کہ گلبرٹ ٹیودورو نے پیغام کو نظر انداز کرنے کے بجائے وہیں پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ منتظمین کے مطابق یہ نوٹ سیول واقع چینی سفارت خانہ کے ایک فوجی افسر نے بھیجا تھا۔ اس نے پہلے نوٹ ایک اسٹاف ممبر کو دیا تھا۔ اسٹاف ممبر نے اسے ٹیودورو کے اپنے وفد کا پیغام سمجھ لیا اور تقریر کے درمیان انہیں سونپ دیا۔
دراصل خط میں بحیرہ جنوبی چین پر چین کا پرانا موقف دوہرایا گیا تھا۔ چین نے 2016 کے ثالثی فیصلے کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف بتایا۔ پیغام بھیجنے کا طریقہ بھی تنازعہ کی وجہ بنا۔ ٹیودورو نے کہا کہ اس سے ان کی ہی نہیں بلکہ میزبان جنوبی کوریا اور کانفرنس میں موجود دوسرے لوگوں کی بھی توہین ہوئی۔
ٹیودورو نے جب نوٹ پڑھا تو اس میں چین کا کہنا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین سے متعلق 2016 کے ثالثی فیصلے نے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ یہ معاملہ فلپائن نے سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کے تحت چین کے خلاف اٹھایا تھا۔ 2016 میں ٹریبونل نے بحیرہ جنوبی چین پر چین کے وسیع تاریخی حقوق کے دعووں کو خارج کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ فلپائن کے خصوصی اقتصادی شعبہ میں وسائل پر چین کے دعوے کا کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ چین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے پر ٹریبونل کو اختیار ہی نہیں تھا۔
خط پڑھنے کے بعد ٹیودورو نے چین کے پیغام سے زیادہ اس کے طریقے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بین الاقوامی اسٹیج پر اس طرح کسی ملک سے مہذب طریقے سے کیسے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس قدم سے کانفرنس کے منتظمین اور جنوبی کوریا کی بھی توہین ہوئی ہے۔ اس دوران انہوں نے چین پر کئی سنگین الزامات عائد کیے۔ ٹیودورو نے کہا کہ یہ اصل میں دباؤ بنانا، ڈرانا اور جارحیت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کو بنیادی آداب اور طرز عمل سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ شرم رکھنی چاہیے۔ اس کے بعد ٹیودورو نے اس شخص کی جانب بھی توجہ دی جس نے پیغام پہنچایا تھا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے ملک کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے لیے اسے کسی ’گولاگ‘ یعنی جبری مشقت کے کیمپ میں سزا نہیں بھگتن پڑے گی۔ ساتھ ہی ٹیودورو نے واضح کیا کہ فلپائن بحیرہ جنوبی چین میں چین کی سرگرمیوں کو لے کر شدید تشویش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک کو روزانہ چین کی جانب سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹیودورو کے مطابق چین فلپائن کے علاقے اور خاص طور پر اس کے خصوصی اقتصادی زون میں اپنا قبضہ اور موجودگی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی وجہ سے فلپائن نے اپنے دفاعی نظام اور دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سمندری علاقے پر اپنے اکیلے استعمال یا حق کے لیے قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ قابل ذکرہے کہ بحیرہ جنوبی چین دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تناؤ کی ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر متنازعہ سمندری علاقوں میں اپنے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں۔ فلپائن 2016 کے ثالثی فیصلے کو اپنے موقف کی قانونی بنیاد مانتا ہے، جبکہ چین آج بھی اس فیصلے کو مسترد کرتا ہے۔
