ہندوستان کی فائنانشیل انٹلیجنس یونٹ نے 15 کرپٹو پلیٹ فارمز کو جاری کیا نوٹس، انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ سے جڑا ہے معاملہ
وزارت مالیات کے مطابق ایف آئی یو ڈائریکٹر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے تحت نوڈل افسر کے طور پر نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں 15 اداروں سے جڑے ایپس و یو آر ایل کو عوامی رسائی سے ہٹانے کے لیے کہا گیا ہے

ہندوستان کی ’فائنانشیل انٹلیجنس یونٹ‘ (ایف آئی یو) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کی عدم تعمیل کے لیے 15 ورچوئل ڈیجیٹل اثاثہ سروس پرووائیڈرز کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ جانکاری بدھ کو جاری ایک بیان میں دی گئی۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایف آئی یو-انڈیا کے ڈائریکٹر نے ان اداروں کے خلاف تعمیل سے متعلق کارروائی کے تحت یہ نوٹس جاری کیے ہیں، جو ضروری شرائط پوری کیے بغیر کام کر رہے تھے۔
دی گئی جانکاری کے مطابق جن کرپٹو پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ان میں وی ایکس، بلوفن، ریزوریکس، بٹ یونیکس، ڈیجی فائنانس، ٹو بٹ، ایکس ٹی ڈاٹ کام، لاٹوکن، وو ایکس، پائنکس، چینج ناؤ، سمپل سوئپ، فکسڈ فلوٹ، وائٹ بٹ اور گارڈیرین شامل ہیں۔ وزارت نے بتایا کہ ایف آئی یو ڈائریکٹر نے ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے تحت نوڈل افسر کے طور پر نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان نوٹس میں 15 اداروں سے متعلق ایپس اور یو آر ایل کو عوامی رسائی سے ہٹانے کے لیے کہا گیا ہے۔
وزارت مالیات نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارمز ہندوستان کے پی ایم ایل اے سے متعلق قوانین کی تعمیل کیے بغیر غیر قانونی طریقے سے چل رہے تھے۔ یہ کارروائی ضروری تھی کیونکہ مارچ 2023 میں ورچوئل ڈیجیٹل اثاثہ سروس پرووائیڈرز کو ہندوستان کے پی ایم ایل اے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف فریم ورک کے دائرے میں لایا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں کام کرنے والے وی ڈی اے سروس پرووائیڈرز (چاہے وہ غیر ملکی ہوں یا گھریلو) کے لیے ایف آئی یو-انڈیا کے ساتھ رپورٹنگ اداروں کے طور پر رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کو فیاٹ کرنسی کے بدلے ایکسچینج کرنے، ڈیجیٹل اثاثوں کو منتقل کرنے یا کسٹڈی یا انتظامی خدمات فراہم کرنے جیسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، تو یہ رجسٹریشن لازمی ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ ذمہ داریاں سرگرمیوں کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں اور یہ اس صورت میں بھی نافذ ہوتی ہیں، جب کسی کمپنی کی ہندوستان میں کوئی فزیکل موجودگی نہ ہو۔
علاوہ ازیں رجسٹرڈ وی ڈی اے سروس پرووائیڈرز کے لیے پی ایم ایل اے اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق رپورٹنگ، ریکارڈ رکھنے اور دیگر ذمہ داریوں کی تعمیل کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی، وزارت خزانہ نے لوگوں کو یہ بھی خبردار کیا کہ کرپٹو مصنوعات اور نان فنجیبل ٹوکن (این ایف ٹی) ریگولیٹیڈ نہیں ہیں اور ان میں بہت زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔ وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ایسے لین دین سے ہونے والے کسی بھی نقصان کے لیے کوئی ریگولیٹری انتظام موجود نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
