
آئی اے این ایس
لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں ایک تجارتی عمارت میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی حادثے میں 15 افراد کی جان چلی گئی، جبکہ اس حادثے میں محفوظ رہنے والے محمد آصف نے اپنی دردناک روداد سناتے ہوئے بتایا کہ دوسری منزل پر قائم اسٹوڈیو کا داخلی دروازہ بایومیٹرک نظام کے باعث بند ہو گیا تھا اور بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے اسے کھولنا ممکن نہیں رہا۔
محمد آصف نے بتایا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ دوبارہ کام شروع کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ عملے کے بعض افراد نے آ کر اطلاع دی کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے۔ اس کے بعد تمام لوگ عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے، لیکن بجلی نہ ہونے کے باعث بایومیٹرک نظام کام نہیں کر رہا تھا اور داخلی دروازہ بند ہو چکا تھا۔
Published: undefined
انہوں نے بتایا کہ کسی طرح وہ دوسرے کمرے تک پہنچے اور ایک دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کی، لیکن اس وقت تک سیڑھیوں میں دھواں بھر چکا تھا۔ شدید دھوئیں کی وجہ سے وہ واپس کمرے میں آ گئے اور تولیوں سے چہرہ ڈھانپ کر بچنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ کھڑکی کے قریب پہنچنے پر مزید دھواں اندر آ رہا تھا، اسی دوران انہیں ایک چھوٹی کھڑکی کے پاس سے گزرتا ہوا بجلی کا تار دکھائی دیا۔ آصف کے مطابق وہ اور چار پانچ دیگر افراد اسی تار کے سہارے نیچے اترنے میں کامیاب ہوئے۔
آصف نے بتایا کہ دم گھٹنے سے بچنے کی کوشش میں بعض لوگوں نے واش روم میں خود کو بند کر لیا تھا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے ایک ساتھی جینت گپتا نے شیشے کی کھڑکی توڑ کر چھلانگ لگانے کی کوشش کی، تاہم وہ لوہے کی ریلنگ پر جا گرے، جس سے ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ تقریباً آدھے گھنٹے تک سڑک پر پڑے رہے، جس کے بعد انہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔
Published: undefined
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد موقع پر پہنچی۔ ان کے مطابق آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ تقریباً سو میٹر دور سے بھی جسم پر اس کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فائر الارم کام نہیں کر رہا تھا اور اندر موجود لوگوں کو آگ کی سنگینی کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہو سکا، کیونکہ ہر طرف صرف دھواں ہی دھواں تھا۔
Published: undefined
حادثے کی عینی شاہد مالا نگم نے بتایا کہ نچلی منزل پر قائم پالتو جانوروں کی دکان سے لوگوں نے جلدی جلدی پنجروں کو باہر نکال کر جانوروں کو بچانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق چند بچے اوپر سے کودنے کے باعث زخمی ہوئے، لیکن بعد میں آگ اس قدر شدید ہو گئی کہ کسی کے لیے عمارت کے اندر جانا ممکن نہ رہا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چھت تک رسائی ممکن ہوتی تو شاید مزید بچوں کو بچایا جا سکتا تھا، لیکن چھت کا دروازہ شٹر سے بند تھا اور کئی بچے اندر ہی پھنس گئے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined