مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری قابل قبول نہیں، ستیہ نڈیلا کی تنبیہ

مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر ستیہ نڈیلا نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری خطرناک ہے۔ انہوں نے کم لاگت، زیادہ شفافیت اور وسیع عوامی رسائی پر مبنی نظام کی حمایت کی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر ستیہ نڈیلا نے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں بڑھتے ہوئے ارتکاز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چند بڑی کمپنیاں مل کر اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتیں، جو معیشت، روزگار اور سماجی ڈھانچے میں تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی زیادہ شفاف، کم خرچ اور عوامی اعتماد پر مبنی ہونی چاہیے۔

ایک انٹرویو کے دوران ستیہ نڈیلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اگلے مرحلے میں صارفین کو زیادہ اختیار اور ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسا مستقبل قابل قبول نہیں ہوگا جس میں سیکھنے، استعمال اور اس کے فوائد پر صرف چند اداروں کا کنٹرول ہو۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایسے نظام کو قبول نہیں کریں گے جس میں طاقت محدود ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے۔

انہوں نے اس تصور کو بھی مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت تمام سفید پوش ملازمتوں کا خاتمہ کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ضرورت ملازمتوں کو ختم کرنے کے بجائے کام کے طریقوں کو ازسرنو منظم کرنے کی ہے۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں بعض کردار اور ذمہ داریاں تبدیل ہوں گی، لیکن مناسب حکمت عملی کے ذریعے کارکنوں کو نئی صورت حال سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔


ستیہ نڈیلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو ایک ’علمی انجن‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو اداروں کو اپنے افرادی وسائل، معلومات اور ٹیکنالوجی کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس تصور کی حمایت کی کہ کمپنیاں ایک ہی فراہم کنندہ پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف صلاحیتوں اور قیمتوں والے متعدد نمونوں سے فائدہ اٹھائیں۔

مائیکروسافٹ کے سامنے موجود اہم فیصلوں میں چینی مصنوعی ذہانت کمپنی ڈیپ سیک کے کم لاگت والے نمونوں کی میزبانی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر مقابلے میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو پہلے ہی قیمتوں اور مسابقت کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے محض دعوے کافی نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی صلاحیتوں میں اضافہ، روزگار کی نئی شکلوں کی تشکیل اور معاشی ترقی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ستیہ نڈیلا کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں میں مصنوعی ذہانت کے اثرات، روزگار، اقتصادی طاقت اور قومی مسابقت کے حوالے سے بحث میں تیزی آ رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔