لکھنؤ آتشزدگی معاملہ: معذور والد اور بہن کی ذمہ داری لئے موت کی آغوش میں سو گیا عبد الرحمان

متوفیوں میں بیشتر نوجوان طالب علم تھے جو اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے یہاں پڑھائی کے ساتھ نوکری کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد اب ان خاندانوں کا درد سامنے آرہا ہے جن کی زندگی ایک جھٹکے میں بدل گئی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل فوٹو</p></div>
i

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے علی گنج واقع پورنیا علاقے میں پیر کو ہوئی آتشزدگی میں 15 ہلاکتوں سے غم کا ماحول ہے۔ اس دلدوز واردات کی خوفناک تصاویر اور دردناک کہانیاں لگاتار سامنے آرہی ہیں۔ اینیمیشن اسٹوڈیو چلانے والی عمارت میں لگی آگ نے کئی جانیں لے لیں اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ متوفیوں میں بیشتر نوجوان طالب علم تھے جو اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لیے یہاں پڑھائی کے ساتھ ملازمت کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد اب ان خاندانوں کا درد سامنے آ رہا ہے جن کی زندگی ایک جھٹکے میں بدل گئی۔

انہی متوفیوں میں عبد الرحمان بھی شامل ہیں۔ خاندان والوں کے مطابق وہ اپنے گھر کے اکلوتے کمانے والے تھے۔ ان کے والد معذور ہیں جبکہ بہن کی شادی کی ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر تھی۔ کئی سال پہلے اینیمیشن کی ٹریننگ لینے کے بعد انہیں اسی انسٹی ٹیوٹ میں نوکری مل گئی تھی جہاں وہ پچھلے 4 سالوں سے کام کر رہے تھے۔ اپنی محنت اور لگن سے وہ خاندان کا خرچ چلا رہے تھے اور مستقبل کے کئی خواب دیکھے تھے، لیکن اس دردناک حادثہ کی وجہ سے وہ اپنے خوابوں کو پورا کئے بغیر ہی موت کی آغوش میں چلے گئے۔


بتایا جا رہا ہے کہ آگ لگنے کے وقت عمارت میں افرا تفری مچ گئی تھی۔ عمارت میں باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہونے کی وجہ سے بچاؤ اور راحت کے کام میں کافی مشکلیں آئیں۔ کئی لوگوں نے باتھ روم میں چھپ کر جان بچانے کی کوشش کی جبکہ کچھ نے عمارت سے چھلانگ لگا کر باہر کودنے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی لوگ اپنی کوششوں میں کامیاب رہے لیکن کئی دیگر آگ اور دھوئیں کی زد میں آ گئے۔

اس حادثے کے بعد ایک ایک کر کے کئی رُلا دینے والی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ کسی نے آخری وقت میں اپنے اہل خانہ کو فون کر کے حالات بتائے, تو کسی نے باہر نکلنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا دی۔ عبد الرحمان کی موت بھی ایسا ہی ایک سانحہ بن کر سامنے آیا ہے جس نے متاثرہ خاندان کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ معاملے میں پولیس نے 6 نامزد ملزمین سمیت دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ معاملے میں رام کرشن اپادھیائے، ویریندر پرساد شکلا اور تشانک کرشنا جیسوال کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جانچ ایجنسیاں دیگر ذمہ داروں کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہیں۔


ابتدائی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی، اسے رہائشی استعمال کے لیے منظوری ملی تھی لیکن بعد میں وہاں کمرشیل سرگرمیاں چلائی جانے لگیں۔ اس انکشاف کے بعد لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے کام کاج پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ فی الحال پولیس اور انتظامیہ پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ میں مصروف ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔