لکھنؤ میں خوفناک آتشزدگی، 200 سے زائد گھر اور جھونپڑیاں جل کر راکھ، 6 بچے اب بھی لاپتہ

متاثرہ لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اور فائر بریگیڈ بروقت نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے آگ خطرناک شکل اختیار کرگئی۔ مشتعل رہائشیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کافی کہا سنی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

<div class="paragraphs"><p>آگ کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے وکاس نگرسیکٹر 12 رنگ روڈ کنارے واقع غیر قانونی بستی میں بدھ کی شام بھیانک آگ لگ گئی اور دیکھتے دیکھتے ہی آگ نے تیزی سے 1200 جھونپڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جھونپڑیوں میں رکھے گئے 100 کے قریب گیس سلنڈر بھی پھٹ گئے۔ آگ لگنے سے پورے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ اپنی جان بچا کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ وہیں اطلاع ملنے پر 22 فائر انجنوں نے آگ بجھانے کا کام شروع کیا جو رات 10 بجے تک جاری رہا۔ اس دوران آگ میں تقریباً 50 مویشیوں کے زندہ جل جانے کی اطلاع ہے اور کچھ بچے بھی لاپتہ ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ بستی میں سرچ آپریشن کر رہی ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس اور فائر بریگیڈ بروقت نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے آگ خطرناک شکل اختیار کرگئی۔ مشتعل رہائشیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کافی کہا سنی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

وکاس نگر سیکٹر 12 واقع منی اسٹیڈیم سے کچھ ہی فاصلے پر 3 بیگھہ خالی اراضی پر لوگ برسوں سے جھونپڑی بنا کر رہ رہے تھے جہاں بدھ کی شام تقریباً 5 بجے ایک جھونپڑی میں اچانک آگ لگ گئی۔ بستی میں آگ لگنے سے پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے۔ سڑک پر بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ آس پاس کی دکانیں بند اور ٹریفک بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ پولیس اور فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے اور خوفناک آگ کو دیکھ کر حکام کو اطلاع دی۔ کچھ ہی منٹوں میں پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اورایک کے بعد ایک 22 فائر انجن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ خوفناک آگ سے بچنے کے لیے جسے جہاں جگہ ملی وہ ادھر بھاگا۔ اس بھگدڑ میں دو خاندانوں کے 6 بچے لاپتہ ہو گئے۔ ایک خاندان کے 4 اور دوسرے کے 2 بچے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ نے رات گئے تک بچوں کی تلاش جاری رکھی۔


خواتین اور دیگر متاثرین نے پلاٹ مالک کے گھر کا گھیراؤ کرکے ہنگامہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پلاٹ مالک ان پر جھونپڑیوں کو ہٹانے کے لیے کئی دنوں سے دباؤ ڈال رہا تھا۔ انہوں نے انکار کیا تو اس نے آگ لگا دی۔ پولیس نے متاثرین کو سمجھانے کی کافی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔ کچھ لوگوں نے پلاٹ کے مالک کے گھر پر پتھراؤ بھی کردیا۔ مشتعل لوگوں کو روکنے کے لیے نے طاقت کا استعمال کیا۔ بستی میں آگ اتنی خوفناک تھی کہ آگ کے شعلے اور دھوئیں کا غبار تقریباً 5 کلومیٹر دور تک نظر آرہا تھا۔ رنگ روڈ کی طرف جانے والا ٹریفک بھی آگ کی وجہ سے کئی گھنٹے تک متاثر رہا۔

خرم نگر، وکاس نگر، منی اسٹیڈیم اور رنگ روڈ کے علاقے میں ٹریفک جام لگ گیا۔ پولیس کو ٹریفک معمول پر لانے میں کئی گھنٹے لگے۔ آگ کی واردات کی اطلاع پر نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹ، پولیس کمشنر، چیف ڈیولپمنٹ افسر، نگرکمشنر، ایس ڈی آرایف اور دیگر افسران کے ساتھ اس واردات میں امدادی کاموں کو لے کر تفصیل سے بات کی اور متاثرہ خاندانوں کے رہنے اور کھانے کا انتظام کرنے کی ہدایت دی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔