
فائل تصویر آئی اے این ایس
سینئر وکیل کپل سبل نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں کہا کہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ’انتہائی عجیب‘ طریقۂ کار اپنائے جا رہے تھے اور ایس آئی آر سے متعلق سنجیدہ ہدایات واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے کو بھیجی جا رہی تھیں۔
Published: undefined
کپل سبل نے ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی عرضی کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز میں یہ عمل انجام دیا جا رہا ہے اس سے ’بے تکے تضادات‘ سامنے آئے ہیں اور اس معاملے میں عدالتی جانچ ضروری ہے۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی جس پر چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کمیشن کو تمام عرضیوں کے لیے ایک مشترکہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن نے دسمبر میں سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اس وقت کے ایس آئی آر کے دوران مغربی بنگال میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے الزامات ’بڑھا چڑھا کر‘ لگائے گئے تھے اور یہ معاملہ کچھ خاص سیاسی مفادات کے تحت اٹھایا گیا تھا۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن نے ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ڈولا سین کی جانب سے دائر کی گئی ایک مفادِ عامہ کی عرضی کے جواب میں 24 جون اور 27 اکتوبر کے ایس آئی آر احکامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر فہرست کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے یہ عمل ضروری ہے۔
Published: undefined
کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 324 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعات 15، 21 اور 23 کا حوالہ دیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر ایس آئی آر کرانے کے اپنے اختیارات پر زور دیا۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات 1950 کی دہائی سے ہندوستان کے انتخابی نظام کا حصہ رہے ہیں۔
Published: undefined
کمیشن نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ ملک گیر ایس آئی آر 1962-66، 1983-87، 1992-93، 2002 اور 2004 کے دوران کیے جا چکے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ موجودہ عمل اسی آئینی مینڈیٹ کا تسلسل ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعے حقیقی ووٹروں کے حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ یہ الزامات ’غلط ہیں اور مکمل طور پر مسترد کیے جاتے ہیں‘۔
Published: undefined