چیف الیکشن کمشنر کو مقدمہ سے استثنیٰ رکھنے والے اختیار کو چیلنج، سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن سے طلب کیا جواب
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا صدر جمہوریہ یا گورنر کو نہ ملنے والی یہ رعایت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو دی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ اس قانون کی درستگی کا جائزہ لینے پر راضی ہو گیا ہے جو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو تاحیات مقدمہ سے استثنیٰ قرار دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا صدر جمہوریہ یا گورنر کو نہ ملنے والی یہ رعایت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو دی جا سکتی ہے۔ ’لوک پرہری‘ این جی او کی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکز اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر 4 ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ یہ سماعت سی جے آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ میں ہوئی۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو ان کے سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے جو قانونی حفاظت ملی ہے، اس کے متعلق غیر سرکاری تنظیم (این جی او) لوک پرہری کے ذریعہ عرضی داخل کی گئی ہے۔ این جی او نے اپنی عرضی میں اس طرح کی رعایت کو غلط قرار دیا ہے۔ اس سے قبل بھی کانگریس پارٹی اس طرح کی مخالفت درج کرا چکی ہے۔
مرکز کی مودی حکومت نے 2023 میں ایک قانون لائی تھی، جسے اسی وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس کرایا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق کوئی بھی عدالت سرکاری ڈیوٹی میں کیے گئے کاموں (جیسے انتخابی فیصلے، بیان-ردعمل) کے لیے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تحفظ موجودہ اور سابق دونوں کمشنرز پر نافذ ہوتی ہے۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ عہدہ پر رہنے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ہی لایا گیا تھا۔
لوک پرہری این جی او نے اپنی عرضی میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عہدہ پر رہتے ہوئے کوئی غلط کام کرنے کے بعد بھی مقدمہ درج نہ ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا متوازن ہونا بہت ضروری ہے۔ اسی معاملہ پر اب سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے، جس میں حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ پارلیمنٹ سے منظور شدہ اس قانون میں مقدمہ نہ چلائے جانے کی چھوٹ کی ہی مخالفت ہو رہی ہے۔ کانگریس نے بھی پارلیمنٹ میں اس کی جم کر مخالفت کی تھی، اب اسی معاملہ میں سپریم کورٹ میں سماعت کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد حکومت اس معاملے میں قانون کی حفاظت کس طرح سے کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کیا جواب آتا ہے، سب کی نگاہیں اس پر مرکوز رہنے والی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔