مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب خام تیل کی قیمتوں میں لگی’آگ‘! 83 ڈالر فی بیرل سے تجاوز، سپلائی پر بھی خدشات میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہندوستان کے درآمدی بل کو متاثر کرسکتا ہے۔ اگر پورے سال کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل1 ڈالر اضافہ ہوتا ہے تو ہندوستان کا درآمدی بل تقریباً 16,000 کروڑ روپے بڑھ سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سپلائی پر اثر پڑنے کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی آئی ہے کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو صبح کے شروعاتی کاروبار میں انٹرکانٹینینٹل ایکسچینج پر بینچ مارک خام تیل کا اپریل معاہدہ 2.43 فیصد اضافے کے ساتھ 83.26 ڈالر فی بیرل پر کاروبار کررہا تھا۔

دوسری جانب نیو یارک مرکنٹائل ایکسچینج (این وائی میکس) پر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے لیے اپریل کا معاہدہ 2.63 فیصد بڑھ کر 76.63 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزر رہے ایک کنٹینر جہاز پر پروجیکٹائل سے حملہ ہوا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہندوستان کے درآمدی بل کو متاثر کرسکتا ہے۔ اگر پورے سال کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل 1 ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے تو ہندوستان کا درآمدی بل تقریباً 16,000 کروڑ روپے بڑھ سکتا ہے۔


دریں اثنا حکومتی ذرائع کے مطابق ہندوستان اس وقت خام تیل، ایل پی جی اور ایل این جی کے حوالے سے نسبتاً محفوظ پوزیشن میں ہے۔ ملک میں تقریباً 25 دن کے خام تیل کے ذخائر اور 25 دن کی پیٹرولیم مصنوعات موجود ہیں۔ اس میں وہ تیل بھی شامل ہے جو جہازوں کے ذریعہ ملک کی بندرگاہوں کی طرف آرہا ہے۔

ہندوستان اپنی کل خام تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، جس میں سے تقریباً 50 فیصد مشرق وسطیٰ کے ممالک سے آتا ہے جو بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ہندوستان آتا ہے۔ ایران جنگ کے بعد اس راستے سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم ہندوستان نے افریقہ، روس اور امریکہ سے تیل کی درآمدات میں اضافہ کرکے اور اسٹریٹجک ذخائر بنا کر اپنی توانائی کی حفاظت کو مضبوط بنا کر اپنے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔


گزشتہ چند سالوں کے دوران ہندوستان نے خلیج کے علاوہ دیگر ممالک سے تیل کی درآمدات میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی کی ایک قابل ذکر مقدار اب آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتی۔ ہندوستان نے 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں خام تیل کی درآمد پر 137 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (اپریل 2025 سے جنوری 2026) کے دوران 206.3 ملین ٹن خام تیل کی درآمد پر 100.4 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔