سوشل میڈیا
دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما کے خلاف غیرقانونی نقدی رکھنے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی سہ رکنی ان ہاؤس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اب صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں سے مشاورت کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ ’اے بی پی نیوز‘ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ یہ مواخذے کی کارروائی کے آغاز کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
Published: undefined
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب 14 مارچ کی شب دہلی میں جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ پر آگ لگ گئی تھی اور بعد میں وہاں سے بھاری مقدار میں جلی ہوئی نقدی کے آثار ملے۔ 22 مارچ کو چیف جسٹس نے اس واقعے کی مزید چھان بین کے لیے تین ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی، جس میں چیف جسٹس شیل ناگو (پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ)، چیف جسٹس جی ایس سندھوالیہ (ہماچل پردیش ہائی کورٹ) اور جسٹس انو شیورامن (کرناٹک ہائی کورٹ) شامل تھے۔
Published: undefined
کمیٹی نے 25 مارچ کو جسٹس ورما کے سرکاری بنگلے، 30 تغلق کریسنٹ، کا معائنہ کیا۔ انہوں نے آتشزدگی والے کمرے کی ویڈیوگرافی کروائی اور دہلی پولیس کمشنر، فائر ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران، جائے وقوعہ پر موجود پولیس اور فائر بریگیڈ عملے سے بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ جسٹس ورما کے عملے، سکیورٹی گارڈز اور اہل خانہ کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
Published: undefined
کمیٹی نے جسٹس ورما کا بیان بھی حاصل کیا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی افراد کے گزشتہ 6 ماہ کے کال ڈیٹا ریکارڈز کی تکنیکی جانچ کروائی تاکہ ان کے رابطوں اور مالی لین دین کی مکمل جانچ کی جا سکے۔
چیف جسٹس نے 4 مئی کو کمیٹی کی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد جسٹس ورما سے دو روز میں جواب مانگا اور ان سے کہا کہ وہ استعفیٰ دینے پر غور کریں، تاہم ذرائع کے مطابق جسٹس ورما نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے ان کی وضاحت اور انکوائری رپورٹ دونوں کو صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو بھیج دیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ہائی کورٹ جج کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی میں مواخذے کا عمل شروع ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو جسٹس ورما کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز