’غزہ امن بورڈ‘ کی تشکیل کے درمیان فلسطین میں بڑا سیاسی اعلان، یکم نومبر کو ہوں گے عام انتخاب
فسلطین نیشنل کونسل (پی این سی) پر اب تک فتح پارٹی کا دبدبہ رہا ہے۔ یہ وہی تنظیم ہے جس کی بنیاد فلسطین کے تاریخی لیڈر یاسر عرفات نے ڈالی تھی، جن کا انتقال 2004 میں ہوا تھا۔

ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’غزہ امن بورڑ‘ کی تشکیل کی تیاری کر رہے ہیں، تو دوسری جانب فلسطین کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر کو فسلطین نیشنل کونسل (پی این سی) کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہی کونسل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی پارلیمنٹ مانی جاتی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق اس فیصلے کو صدر کے آفیشیل حکم کے تحت منظوری دی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پی این سی کے ممبران براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب کیے جائیں گے۔ جبکہ اب تک ان کا انتخاب تقرری یا آپسی رضامندی کے ذریعہ ہوتا رہا ہے۔ فسلطین نیشنل کونسل (پی این سی) کو طویل عرصے سے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی جلاوطن پارلیمنٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم پوری دنیا میں بسے فلسطنیوں کی سیاسی آواز مانی جاتی ہے۔ محمود عباس کے حکم کے مطابق جہاں بھی ممکن ہوگا فلسطین کے اندر اور باہر، دونوں جگہ انتخاب کرائے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی شہری اس عمل میں شامل ہو سکیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے مطابق ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جہاں جہاں فلسطینی رہتے ہیں، انہیں اپنے نمائندے کے انتخاب کا موقع ملے۔ یہ بیان واضح طور پر اشارہ دیتا ہے کہ قیادت عالمی فلسطینی برادری کو متحد کرنے کی کوشش میں ہے۔ محمود عباس فی الحال فلسطینی اتھارٹی کے صدر بھی ہیں اور پی ایل او کے سربراہ بھی۔ ایسے میں یہ فیصلہ ان کی سیاسی وراثت اور قیادت کے حوالے سے بھی اہم مانا جا رہا ہے۔ پی این سی انتخاب کو کئی تجزیہ کار پی ایل او کو پھر سے سرگرم اور ہم آہنگ بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فسلطین نیشنل کونسل (پی این سی) پر اب تک فتح پارٹی کا دبدبہ رہا ہے۔ یہ وہی تنظیم ہے جس کی بنیاد فلسطین کے تاریخی لیڈر یاسر عرفات نے ڈالی تھی، جن کا انتقال 2004 میں ہوا تھا۔ محمود عباس بھی فتح تحریک سے وابستہ ہیں۔ حالانکہ فلسطین کی 2 بڑی اسلامی طاقتیں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد (پی آئی جے) اس کونسل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان تنظیموں کو پی ایل او کی رکنیت نہیں ملی ہے، اس لیے پی این سی میں بھی ان کی کوئی نمائندگی نہیں ہوگی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ براہ راست انتخاب سے فلسطین نیشنل کونسل (پی این سی) کو جمہوری جواز حاصل ہوگا، لیکن حماس جیسی بڑی تنظیموں کی عدم موجودگی اس کی حدیں بھی واضح کرتی ہیں۔ پھر بھی یہ قدم فلسطین کی سیاست میں شفافیت اور حصہ داری کو بڑھانے کی سمت میں اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔