غزہ امن بورڈ سے اقوام متحدہ میں ویٹو والے 3 ممالک نے بنائی دوری، امریکی صدر ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ!
امریکی صدر نے فلسطین کے غزہ میں امن بحالی اور بازآبادکاری کو لے کر ’غزہ امن بورڈ‘ قائم کیا ہے۔ اس میں شامل ہونے کے لیے 58 ممالک کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’غزہ امن بورڈ‘ تو قائم کر دیا ہے، لیکن دنیا کے کئی بڑے ممالک اس سے دوری اختیار کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ فرانس کے بعد برطانیہ اور چین نے اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جو امریکی صدر کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ان تینوں ہی ممالک کے پاس ویٹو پاور ہے۔ روس اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے فی الحال ’غزہ امن بورڈ‘ سے متعلق اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ روسی صدر ولادمیر پوتن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر یوکرین جنگ سے متعلق انھیں اگر کوئی رعایت دی جاتی ہے، تو وہ غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے پر غور کریں گے۔
دراصل امریکی صدر نے فلسطین کے غزہ میں امن بحالی اور بازآبادکاری کے لیے غزہ امن بورڈ قائم کیا ہے۔ اس میں شامل ہونے کے لیے انھوں نے 58 ممالک کو دعوت نامہ بھیجا ہے، جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ ’دی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ٹرمپ کی تجویز پر سنجیدگی کے ساتھ غور ہو رہا ہے۔ 31-30 جنوری کو ہندوستان میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ مجوزہ ہے، اس میں کچھ رائے مشورہ ہونے کا امکان ہے۔
قابل ذکر ہے کہ چین نے امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز کو واضح انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان یو جنگ نے کہا کہ ہمیں اس میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی گئی ہے، لیکن ہم اقوام متحدہ کی حفاظت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یو چنگ نے یہ بھی کہا کہ چین ہمیشہ سے حقیقی کثیر جہتی پر عمل کرتا آیا ہے۔ انھوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’بین الاقوامی منظرنامہ میں چاہے جو بھی تبدیلی آئے، چین اقوام متحدہ کو مرکز میں رکھ کر بنائے گئے بین الاقوامی نظام، بین الاقوامی قوانین پر مبنی انتظام اور اقوام متحدہ چارٹر کے مقاصد و اصولوں پر مبنی بین الاقوامی رشتوں کے بنیادی پیمانوں کی حفاظت کے لیے پرعزم رہے گا۔‘‘
فرانس اور برطانیہ نے بھی غزہ امن بورڈ میں شرکت سے متعلق ٹرمپ کو جھٹکا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی ممالک کو امریکہ کا معاون تصور کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس امن بورڈ میں روس کو جو دعوت نامہ دیا گیا ہے، وہ غلط ہے۔ روس خود جنگ لڑ رہا ہے، پھر وہ امن کا سفیر کیسے ہو سکتا ہے؟ فرانس نے پالیسی پر مبنی معاملوں کی وجہ سے اس میں شامل نہیں ہونے کا فیصلہ لیا ہے۔
دوسری طرف پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں آفیشیل طور پر شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے اندر ہی اس معاملہ پر ہنگامہ برپا ہے۔ سابق وزیر داخلہ فضل الرحمن کے مطابق غزہ امن بورڈ میں نیتن یاہو کے رہتے انصاف نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر گناہ کیا ہے، یہ لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔