’ان ہتھکنڈوں سے کانگریس کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا‘، اراکین پارلیمنٹ کی معطلی پر کانگریس کا سخت رد عمل
کانگریس کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس پر اعتراض ظاہر کیا جاتا ہے تو کانگریس اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمانی کارروائی سے معطل کیا جا رہا ہے۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو آج ایک بار پھر ملک کی خارجہ پالیسی اور چین سے رشتوں پر بولنے نہیں دیا گیا۔ جب جب انھوں نے بولنا چاہا، برسراقتدار طبقہ کے اراکین پارلیمنٹ نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس درمیان ایوان چلا رہے کرشن پرساد تینیٹی کی روش پر بھی کانگریس نے انگلی اٹھائی اور قائد حزب اختلاف کو بولنے کی اجازت نہ دیے جانے پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔
کانگریس نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ تاناشاہی پر آمادہ ہو گئی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس پر اعتراض ظاہر کرنے والے کانگریس اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمانی کارروائی سے معطل کیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی پوری طرح سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ انھیں خوف ہے کہ حزب اختلاف کے قائد پارلیمنٹ میں ان کی قلعی کھول دیں گے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے عزم ظاہر کیا کہ ’’نریندر مودی یاد رکھیں، ان ہتھکنڈوں سے کانگریس کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔ ہم عوام کی آواز ہیں، آپ کو ہمیں سننا ہی ہوگا۔ یہی آئین کی طاقت ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ تصویریں بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں ’مکر دوار‘ کے پاس راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی اپوزیشن لیڈران احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
کانگریس نے لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بولنے سے روکے جانے کی ویڈیو بھی اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کی ہے۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی کے کچھ بھی بولتے ہی کس طرح برسراقتدار طبقہ ہنگامہ آرائی شروع کر دیتا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ ویڈیو دیکھیے۔ آج جب حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی پارلیمنٹ میں بول رہے تھے، اس وقت مودی حکومت نے انھیں بولنے نہیں دیا۔ اتنا ہی نہیں، چیئرمین نے اپوزیشن لیڈر کے بولنے کے درمیان ہی پارلیمنٹ کے دوسرے اراکین کا نام پکار کر انھیں بولنے کے لیے کہا۔ اس غیر جمہوری رویہ کا ساتھ انڈیا اتحاد کے کسی اراکین پارلیمنٹ نے نہیں دیا، اور نام پکارنے کے بعد بھی وہ بولنے کو راضی نہیں ہوئے۔‘‘ پوسٹ میں آگے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’آخر میں برسراقتدار طبقہ کے رکن پارلیمنٹ کا نام پکارا گیا، اور وہ بولنے لگے۔‘‘
اس عمل کو کانگریس نے پوری طرح تاناشاہی قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’یہ تاناشاہی ہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی سازش ہے۔ نریندر مودی اور ان کی حکومت جمہوریت کو ختم کرنے پر آمادہ ہے۔‘‘ پارٹی نے پوسٹ کے آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’آج جو ہوا، وہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ یہ شرمناک ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔