70 سے زائد میزائل اور 450 ڈرون سے روس نے کیا یوکرین پر حملہ، دوسری جنگ عظیم کی تاریخی عمارت کو پہنچا نقصان

زیلنسکی نے کہا کہ ’’روس نے سومی، خارکیف، کیف، نیپرو، اوڈیسا اور وینیتسیا کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں 9 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے کئی سطحوں پر بات چیت چل رہی ہے۔ روس کی جانب سے ایک بار پھر انرجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے منگل (3 فروری) کو حملے کیے گئے ہیں۔ اس میں 70 سے زائد میزائل اور 450 ڈرون داغے گئے ہیں، یہ دعویٰ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کیا ہے۔

زیلنسکی نے بتایا کہ کیف میں ایک ہزار سے زیادہ رہائشی عمارتوں میں ہیٹنگ بند ہو گئی ہے۔ یہاں درجہ حرارت گر کر منفی 20 ڈگری سیلسیس میں پہنچ گیا ہے۔ حملے کے بعد سے تباہ شدہ علاقوں کی مرمت کا کام چل رہا ہے۔ انہوں نے اسے انرجی انفراسٹرکچر پر جان بوجھ کر کیا گیا حملہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری جنگ عظیم کی مشہور عمارت ’مدر لینڈ میموریل‘ کو نقصان پہنچانے کی بات بھی کہی ہے۔


زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’روس نے بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ دیگر میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس کی تعداد تقریباً 70 سے زائد ہوگی۔ ان کے علاوہ 450 ڈرون کا استعمال کیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ روس کے ان حملوں نے سومی اور خارکیف، کیف، نیپرو، اوڈیسا اور وینیتسیا کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے بعد بحالی کا کام جاری ہے، یہ حملہ ہمارے انرجی انفراسٹرکچر پر جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں 9 لوگ زخمی ہوئے ہیں، رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یوکرین کی وزیر ثقافت ٹیٹیانا بیریژنا نے کہا کہ پوری رات ہوئے حملے میں کیف میں واقع دوسری جنگ عظیم کی ایک مشہور عمارت ’مدر لینڈ میموریل‘ کو نقصان پہنچا ہے۔  انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ علامتی اور قابل مذمت ہے۔ حملہ آور ملک 20ویں صدی کی تباہ کن جنگوں کے خلاف بنی یادگار عمارتوں کو ہدف بنا رہا ہے، وہ 21ویں صدی میں اپنے جرائم کو دوہرا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔