قومی خبریں

جے رام رمیش نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف تحریک استحقاق کا نوٹس دیا، پارلیمانی کمیٹی پر توہین آمیز تبصرے کا الزام

رمیش نے کہا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے پر مرکزی وزیر تعلیم کے خلاف راجیہ سبھا میں قواعد و ضوابط اور طریقۂ کار کے رول 187 کے تحت تحریک استحقاق کا نوٹس دیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>

جے رام رمیش /  INCIndia@

 

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا میں پارٹی کے چیف وِہپ جے رام رمیش نے پیر کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف تحریک استحقاق کا نوٹس دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پردھان نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں اپنے تبصروں سے پارلیمنٹ کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں جے رام رمیش نے کہا کہ میڈیکل داخلہ امتحان ’نیٹ-یو جی‘ منسوخ ہونے کے بعد 15 مئی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران پردھان نے تعلیم سے متعلق پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی کے خلاف کچھ توہین آمیز تبصرے کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا احترام نہیں کرتے۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے پر مرکزی وزیر تعلیم کے خلاف راجیہ سبھا میں قواعد و ضوابط اور طریقۂ کار کے رول 187 کے تحت تحریک استحقاق کا نوٹس دیا ہے۔ انہوں نے اس وزارت تعلیم کے سربراہ کے طور پر توہین آمیز تبصرے کیے ہیں جو ملک بھر میں لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کر رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

جے رام رمیش نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو بھیجے گئے تحریک استحقاق کے نوٹس کی ایک کاپی بھی ’ایکس‘ پر شیئر کی۔ انہوں نے اپنے نوٹس میں کہا کہ ’’15 مئی 2026 کو مرکزی وزیر تعلیم کے طور پر دھرمیندر پردھان نے نیٹ-یو جی 2026 پیپر لیک کے معاملے پر نئی دہلی میں ایک آفیشل پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس میں صحافیوں نے پردھان سے پوچھا کہ ان کی وزارت نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی کی سفارشات کو کیوں نافذ نہیں کیا؟‘‘

Published: undefined

جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اس سوال پر وزیر نے اس طرح جواب دیا کہ ’’میں پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ میں ماہرین کی اعلیٰ سطحی کمیٹی (ایچ ایل سی ای)/ رادھا کرشنن کمیٹی کے بارے میں بات کروں گا۔ پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی میں اپوزیشن کے اراکین ہیں۔ وہ چیزوں کو ایک خاص طریقے سے لکھتے ہیں، آپ بھی یہ جانتے ہیں۔ اس لیے، میں مستقل کمیٹی پر بات نہیں کروں گا۔‘‘ ان کے مطابق مرکزی وزیر تعلیم کے یہ تبصرے توہین آمیز ہیں۔

Published: undefined

راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ’’وہ اراکین پارلیمنٹ، پارلیمانی کمیٹیوں اور ہندوستان کی پارلیمنٹ کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیاں ہندوستان کی پارلیمنٹ کا توسیعی حصہ ہیں اور انہیں ’منی-پارلیمنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ اس لیے، مقننہ اور اس کی پارلیمانی کمیٹیوں کے تئیں انتظامیہ کی جوابدہی ہندوستان کی جمہوری سیاست کا ایک بنیادی اصول ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر کے متنازعہ تبصرے واضح طور پر پارلیمنٹ، پارلیمانی کمیٹیوں، تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی کمیٹی کے اراکین اور ہندوستان کی آئینی جمہوریت کے تئیں ان کی توہین کو ظاہر کرتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined