مدھیہ پردیش: جیتو پٹواری کا وزیراعلیٰ کو خط، اندور کے آبی بحران پر اٹھائے سوال
کانگریس کے ریاستی صدر جیتوپٹواری نے وزیراعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر اندور سمیت مدھیہ پردیش کے مختلف مسائل پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر پلس سٹی کہلانے والا اندور بھی شدید آبی بحران سے دوچار ہے

بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے وزیراعلیٰ موہن یادو کو ایک خط لکھ کر ریاست میں بڑھتے عوامی مسائل، خاص طور پر اندور میں پانی کے بحران کو لے کر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس اندور کو ملک کی پہلی واٹر پلس سٹی کہا جاتا ہے، وہاں بھی عوام پانی کے لیے پریشان ہیں اور حالات تشویش ناک ہو چکے ہیں۔
جیتو پٹواری نے اپنے خط میں کہا کہ حکومت کے وزیروں کی کارکردگی اب بند کمروں میں ہونے والی جائزہ میٹنگوں سے نہیں، بلکہ عوامی ناراضگی، اراکین اسمبلی کے احتجاج اور حکومت کے اندر اٹھنے والی آوازوں سے ظاہر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کی انچارج وزیر خود اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ علی راجپور میں رکن اسمبلی ناگر سنگھ چوہان کے شراب کاروبار سے انتظامیہ اور حکومتی نظام پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف اندور میں عوام پانی کے بحران سے دوچار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندور میں صورتحال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی بھی عوامی پروگرام چھوڑ کر آبی بحران پر ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔ پٹواری نے کہا کہ یہ صرف اپوزیشن کا الزام نہیں، بلکہ حکومت کے اندر سے سامنے آنے والی حقیقت ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ حکومت یہ جاننے میں مصروف ہے کہ وزیروں نے کتنی راتیں اضلاع میں گزاریں اور کتنی میٹنگیں کیں، جبکہ عوام یہ پوچھ رہی ہے کہ کتنے گھروں تک پانی پہنچا، کتنی خواتین خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور کتنے نوجوان نشے سے بچ سکے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف عوام پانی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے اور دوسری طرف حکومت تشہیر میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق جہاں شراب مافیا کو سیاسی سرپرستی حاصل ہو، وہاں انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ جیتو پٹواری نے کہا کہ ریاست میں انتظامی نظام کمزور ہو چکا ہے، حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد ختم ہو رہا ہے اور یہی صورتحال حکومت کی اصل رپورٹ کارڈ بن چکی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ کو مشورہ دیا کہ اگر واقعی جائزہ لینا ہے تو کسانوں، پانی کے لیے پریشان خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور روزانہ بدحال نظام کا سامنا کرنے والے شہریوں سے لیا جائے۔
