نیٹ-2026 پیپر لیک پر کانگریس کا احتجاج جاری، 21 مئی کو راجستھان بی جے پی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان
راجستھان کانگریس نے نیٹ-2026 پیپر لیک معاملہ کو لے کر 21 مئی کو جے پور میں بی جے پی کے ریاستی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے مرکزی حکومت اور این ٹی اے پر سخت سوال اٹھائے ہیں

جے پور: راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی نے نیٹ-2026 امتحان کے پیپر لیک معاملہ کے خلاف 21 مئی کو جے پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی دفتر کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی مارچ کی قیادت ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کریں گے۔ پارٹی کے مطابق کانگریس کارکنان 21 مئی کی صبح ریاستی کانگریس دفتر سے مارچ شروع کریں گے، جو شہید اسمارک سے ہوتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی دفتر تک پہنچے گا، جہاں گھیراؤ اور احتجاج کیا جائے گا۔
راجستھان کانگریس کے جنرل سکریٹری اور میڈیا شعبہ کے سربراہ سورنم چترویدی نے پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ نیٹ-2026 پیپر لیک لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کے لیے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی براہ راست ذمہ دار ہیں۔
چترویدی نے دعویٰ کیا کہ جانچ کے دوران مبینہ طور پر بعض بی جے پی رہنماؤں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی نیٹ-2024 اور نیٹ-2025 امتحانات کے تعلق سے پیپر لیک کے الزامات سامنے آ چکے ہیں، مگر اس کے باوجود امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
کانگریس نے الزام لگایا کہ مختلف مرکزی امتحانات میں مسلسل بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچے لیک ہونے کے باوجود نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ کئی امتحانات منسوخ ہونے کے باوجود ذمہ دار افراد کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے۔
پارٹی نے راجستھان حکومت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیٹ-2026 پیپر لیک کی اطلاع ملنے کے باوجود کارروائی میں تاخیر کی گئی اور فوری طور پر مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ کانگریس نے کہا کہ پارٹی کارکنان احتجاج کے ذریعے طلبہ کے مستقبل اور امتحانی نظام میں شفافیت کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مسلسل سامنے آ رہے پیپر لیک کے واقعات نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں اور حکومت اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
