نیٹ پیپر لیک معاملے میں 10ویں گرفتاری، سی بی آئی نے لاتور سے کوچنگ مالک کو حراست میں لیا

سی بی آئی کے مطابق ملزم شیوراج رگھوناتھ نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر نیٹ یوجی امتحان سے قبل ہی 23 اپریل 2026 کو سوالنامہ اور اس کے جوابات حاصل کر لیے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>سی بی آئی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے بڑی کاروائی کرتے ہوئے مہاراشٹر کے لاتور شہر سے ایک کوچنگ مالک کو گرفتار کیا ہے۔ افسران کے مطابق گرفتار ملزم کی پہچان شیوراج رگھوناتھ موٹیگاؤکر کے طور پر ہوئی ہے، جو ’رینوکائی کیمسٹری کلاسز‘ (آر سی سی) نام سے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلاتا ہے۔ اتوار (17 مئی) کو ایجنسی کی جانب سے کی گئی تفتیش کے دوران شیوراج کے موبائل فون پر میڈیکل امتحان کا ایک لیک شدہ سوالنامہ ملا تھا۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

سی بی آئی نے اتوار کو ملزم کے کئی ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی تھی۔ تحقیقات کے دوران شیوراج کے موبائل فون سے مبینہ طور پر نیٹ یوجی امتحان کا لیک سوالنامہ ملا۔ اس کے بعد ایجنسی نے اسے گرفتار کر لیا۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ شیوراج اس منظم گروہ کا سرگرم رکن تھا، جو نیٹ یوجی 2026 امتحان کے سوالنامے لیک کرنے اور اسے پھیلانے میں شامل تھا۔


سی بی آئی کے مطابق ملزم نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر نیٹ یوجی امتحان سے قبل ہی 23 اپریل 2026 کو سوالنامہ اور اس کے جوابات حاصل کر لیے تھے۔ اس کے بعد اس نے یہ پیپر کئی لوگوں تک پہنچایا۔ فی الحال سی بی آئی معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے اور پیپر لیک نیٹورک سے منسلک دیگر لوگوں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں آگے اور گرفتاریاں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی اب تک شیوراج سمیت 10 گرفتاریاں کر چکی ہیں۔ شیوراج کے علاوہ منیشا گروناتھ ماندھرے، پروفیسر پی وی کلکرنی، منگی لال بیوال، دنیش بیوال، یش یادو، شبھم کھیرنار، منیشا واگھمارے اور دھننجے لوکھنڈے کی گرفتاری ہو چکی ہے۔