جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے 319 اساتذہ اور 17 خاتون نگرانوں کو تقرری خطوط سونپے
وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے تقرری نامہ حاصل کرنے والے امیدواروں سے کہا کہ سرکاری ملازمت صرف تنخواہ پانے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ سماج اور ریاست کی ترقی میں تعاون دینے کی ذمہ داری بھی ہے۔

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے پیر کو رانچی کے پروجیکٹ بھون میں منعقدہ ایک ریاستی تقریب میں 319 انٹر اور گریجویٹ تربیت یافتہ اسسٹنٹ اساتذہ اور 17 خاتون سپروائزرز (نگرانوں) کو تقرری کے خطوط سونپے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ 4 مہینوں کے اندر صرف محکمہ تعلیم میں 9000 سے زائد اساتذہ کی بحالی کی جا چکی ہے اور آئندہ 2 سے 4 مہینوں کے اندر مختلف سرکاری محکموں میں ہزاروں نئے عہدوں پر تقرریاں کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : جھارکھنڈ حکومت نے اسملبی میں پیش کیا 1.58 لاکھ کروڑ کا بجٹ
وزیر اعلیٰ نے تقرری نامہ حاصل کرنے والے امیدواروں سے کہا کہ سرکاری ملازمت صرف تنخواہ پانے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ سماج اور ریاست کی ترقی میں تعاون دینے کی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے خاص طور پر دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں خدمات انجام دینے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہو ںے کہا کہ اکثر شکایت ملتی ہے کہ کچھ اساتذہ دور دراز کے گاؤں میں جانے سے کتراتے ہیں، جبکہ اصل ضرورت انہی علاقوں میں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اب تک ان کی حکومت ڈیڑھ سے 2 لاکھ تقرریاں دے چکی ہے، لیکن اب بھی کئی عہدوں پر بحالی کی ضرورت ہے۔
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب کے دوران ریاست میں غذائی قلت کے مسئلے کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت جیسے چیلنجوں کو دور کرنے میں خواتین سپروائزروں اور اساتذہ کا اہم کردار ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو صحت مند، تعلیم یافتہ اور خود کفیل ہو۔ اس موقع پر حکومت کی سماجی تحفظ کی اسکیموں کی پیش رفت سے متعلق بتایا گیا کہ فی الحال ریاست کی تقریباً 50 سے 60 لاکھ خواتین کو ’مئیاں سمان یوجنا‘ کے تحت ہر ماہ براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں مالی امداد بھیجی جا رہی ہے۔ تقریب میں موجود پارلیمانی امور کے وزیر رادھا کرشن کشور اور وزیر سنجے یادو نے بھی نو تقرر شدہ ملازمین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقرری نامہ ملنے کے ساتھ ہی معاشرے کو ایک نئی سمت دینے کی ذمہ داری اب نوجوانوں کے کندھوں پر ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
