جھارکھنڈ بورڈ: یوٹیوب اور سیلف اسٹڈی سے بارہویں کی ٹاپر بنیں راشدہ ناز، بغیر کوچنگ 500 میں 489 نمبر کیے حاصل

جھارکھنڈ بورڈ کی بارہویں سائنس اسٹریم میں راشدہ ناز نے 500 میں 489 نمبر حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے بغیر کوچنگ یوٹیوب، سیلف اسٹڈی اور ذاتی نوٹس کے سہارے یہ کامیابی حاصل کی

<div class="paragraphs"><p>راشدہ ناز / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

رانچی: جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل (جے اے سی) کی جانب سے بارہویں جماعت کے نتائج جاری ہونے کے بعد سائنس اسٹریم میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی راشدہ ناز کی کامیابی ہر طرف موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ دھنباد کے ڈی اے وی ہائی اسکول، پتھرڈیہہ کی طالبہ راشدہ ناز نے 500 میں 489 نمبر حاصل کر کے ریاست بھر میں ٹاپ کیا ہے۔ ان کی کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ انہوں نے کسی مہنگی کوچنگ یا آف لائن ٹیوشن کے بغیر صرف یوٹیوب، سیلف اسٹڈی اور مسلسل محنت کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔

آج ایسے وقت میں جب مقابلہ جاتی امتحانات اور بورڈ نتائج کے لیے کوچنگ سینٹروں کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، راشدہ ناز کی کہانی ایک الگ مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر طالب علم میں لگن، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

راشدہ ناز نے بتایا کہ وہ روزانہ کئی کئی گھنٹے صرف کتابوں کے سامنے بیٹھنے کے بجائے معیاری پڑھائی پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق باقاعدگی سب سے اہم چیز ہے اور ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور پڑھنا چاہیے۔ وہ روزانہ تقریباً 7 سے 8 گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں اور نصاب کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر یوٹیوب اور آن لائن تعلیمی ویڈیوز کی مدد لیتی تھیں۔


انہوں نے کہا کہ این سی ای آر ٹی کی کتابوں کو لائن بہ لائن پڑھنا ان کی تیاری کا اہم حصہ تھا۔ وہ ہر موضوع کو پڑھنے کے بعد اپنے ہاتھ سے نوٹس تیار کرتی تھیں تاکہ اہم نکات آسانی سے یاد رہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خود سے تیار کیے گئے نوٹس امتحان کے دوران سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے امتحان سے کافی پہلے پورا نصاب مکمل کر لیا تھا تاکہ آخری دنوں میں زیادہ وقت ریویژن اور پچھلے برسوں کے سوالیہ پرچوں کی مشق پر دیا جا سکے۔

راشدہ ناز نے اپنی روزمرہ کی روٹین کے بارے میں بتایا کہ گرمیوں کے دوران وہ صبح 4 بجے بیدار ہو جاتی تھیں اور اسکول جانے سے پہلے کئی گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں۔ اسکول سے واپسی کے بعد بھی ان کا زیادہ وقت کتابوں کے ساتھ گزرتا تھا۔ وہ رات 10 بجے تک سونے کی کوشش کرتی تھیں تاکہ اگلے دن تازگی کے ساتھ پڑھائی جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاضی (میتھس) ان کا سب سے پسندیدہ مضمون ہے جبکہ طبیعیات (فزکس) شروع میں ان کے لیے مشکل مضمون تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے طبیعیات پر زیادہ توجہ دی اور اپنے اسکول کے استاد سنجے سر سے رہنمائی حاصل کی۔ ان کے مطابق طبیعیات میں ڈیریویشن اور نیومریکل سوالات کی مسلسل مشق ضروری ہے جبکہ ریاضی میں زیادہ سے زیادہ سوال حل کرنا کامیابی کی کنجی بنتا ہے۔

راشدہ ناز نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین، اساتذہ اور بڑی بہن کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ گھر والوں نے کبھی غیر ضروری دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ہر مرحلے پر حوصلہ افزائی کی۔ ان کی بڑی بہن نے خاص طور پر پڑھائی کے دوران ان کی کافی مدد کی۔


ریاست بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اب راشدہ ناز اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ وہ بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد پروفیسر بنیں اور تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف جھارکھنڈ کے طلبہ بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے جو وسائل کی کمی کو اپنی کمزوری سمجھتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔