انٹرویو: اُردو زبان قمر جہاں کے لیے تدریسی و غیر تدریسی دونوں میدانوں میں عزت و احترام کا سبب بنی

قمر جہاں کا کہنا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو منفرد صلاحیتوں، جداگانہ اوصاف اور ایک خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں ایک الگ شناخت اور ایک منفرد جہت رکھتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>طالبات کے ساتھ اسسٹنٹ پروفیسر قمر جہاں (درمیان میں)</p></div>
i
user

تنویر احمد

قمر جہاں کا مختصر تعارف:

ڈاکٹر قمر جہاں ’مہیلا پوسٹ گریجویٹ کالج، بہرائچ‘ میں شعبۂ اُردو سے منسلک ہیں۔ یہ کالج ’ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اودھ یونیورسٹی، فیض آباد‘ سے ملحق تھا، لیکن 26-2025 سیشن سے کالج کا الحاق ’ماں پاٹیشوری یونیورسٹی، بلرام پور‘ سے ہو گیا ہے۔ درس و تدریس سے بے انتہا شغف رکھنے والی قمر جہاں کی پیدائش اتر پردیش کے کوشامبی ضلع میں نصیر احمد و مومنہ خاتون کے گھر ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ بیک گراؤنڈ سے حاصل کی، جس نے زبان و ادب کے تئیں ان کے ذوق کو جلا بخشی۔ گریجویشن اور ماسٹرز کی تعلیم ’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘ کے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت مکمل کی، اور پھر 2015 میں تاریخی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ایم فل کے بعد 2020 میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

<div class="paragraphs"><p>ایک تقریب سے خطاب کرتی ہوئیں قمر جہاں</p></div>

ایک تقریب سے خطاب کرتی ہوئیں قمر جہاں

شاعری کرنا اور بیڈمنٹن کھیلنا قمر جہاں کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہے، حالانکہ وہ کسی کو اپنا رول ماڈل نہیں مانتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو منفرد صلاحیتوں، جداگانہ اوصاف اور ایک خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ہر شخص اپنی ذات میں ایک الگ شناخت اور ایک منفرد جہت رکھتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’میں نے ہمیشہ خود کو دریافت کرنے، اپنی زندگی کے مقصد اور اس کے جواز کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میری خواہش رہی ہے کہ میں کسی دوسرے کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے اپنی ذات کا بہترین اور مکمل ترین روپ بن سکوں۔‘‘


قمر جہاں کا تدریسی سلسلہ 2021 میں شروع ہوا جب اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ انٹر کالج میں اُردو لیکچرر کے عہدہ پر تقرری ہوئی۔ 2022 میں اتر پردیش ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ اسسٹنٹ پروفیسر (اردو) کے لیے انتخاب ہوا، اور پھر اگست 2022 میں ’مہیلا پی جی کالج، بہرائچ‘ میں اپنی تدریسی خدمات دینا شروع کر دیں۔ انھیں شاعری کے ساتھ ساتھ مضمون نویسی کا بھی شوق ہے۔ ’آج کل‘، ’فکر و نظر‘، ’اردو دنیا‘، ’خواتین دنیا‘، ’امروز‘، ’ایوانِ اردو‘، ’سب رَس‘ جیسے اُردو کے معیاری رسائل و جرائد میں ان کے کئی تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

انٹرویو: اُردو زبان قمر جہاں کے لیے تدریسی و غیر تدریسی دونوں میدانوں میں عزت و احترام کا سبب بنی

کالج کی ایڈمنسٹریٹو بلڈنگ کے باہر طالبات کے ساتھ قمر جہاں (درمیان میں)

مہیلا پی جی کالج میں شعبۂ اردو کی صورت حال کیا ہے اور اردو کے تئیں طالبات کے رجحان کوآپ کتنا اطمینان بخش تصور کرتی ہیں؟

’مہیلا پی جی کالج، بہرائچ‘ میں شعبۂ اردو کی صورت حال مجموعی طور پر اطمینان بخش کہہ سکتے ہیں۔ بظاہر دیکھا جائے تو اردو کو بحیثیت میجر یا مائنر سبجیکٹ منتخب کرنے کے معاملے میں طالبات کے درمیان ایک مثبت رجحان نظر آتا ہے، ساتھ ہی اردو زبان و ادب کے تئیں دلچسپی بھی موجود ہے۔ تاہم ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اردو کو محض اس بنا پر منتخب کرتی ہے کہ اسے سائنس اور دیگر سماجی علوم کے مقابلے نسبتاً آسان مضمون تصور کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بہرائچ کا شمار اتر پردیش کے پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے۔ یہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں شرحِ خواندگی نسبتاً کم ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی مجموعی شرحِ خواندگی تقریباً 50 فیصد تھی، جبکہ خواتین کی شرح خواندگی محض 37 فیصد کے قریب رہی۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تعلیم کے تئیں عمومی بیداری کی کمی کو صرف اردو سے جوڑ دینا مکمل طور پر درست نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کے اثرات مجموعی تعلیمی ماحول پر بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ طالبات میں اردو کے لیے رغبت موجود ہے۔


’مہیلا پی جی کالج‘ کے بارے میں کچھ بتائیں، اس کالج کی کوئی ایسی بات جوآپ کو بہت پسند ہو۔

’مہیلا پی جی کالج، بہرائچ‘ شہر کے مرکزی حصے میں واقع ایک تاریخی اور باوقار ادارہ ہے، جس کی 50 سال سے زائد کی شاندار علمی و تعلیمی روایت ہے۔ یہ کالج نہ صرف تعلیم کا مرکز ہے بلکہ طالبات کی شخصیت سازی، اعتماد سازی اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ یہ ادارہ خاص طور پر طالبات کے لیے مختص ہے، اس لیے ان والدین کے لیے یہ کسی نعمت سے کم نہیں جو اپنی بچیوں کو مخلوط طرزِ  تعلیم والے کالجوں یا یونیورسٹیوں میں بھیجنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ بہرائچ اور اس کے گرد و نواح میں یہ کالج اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں صرف طالبات کی نصابی تعلیم پر ہی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ ان کی ہمہ جہت تربیت، اخلاقی نشو و نما، صلاحیتوں  کے فروغ اور عملی زندگی کے لیے تیاری پر بھی خاص زور دیا جاتا ہے۔  مجھے اس کالج کی سب سے پسندیدہ بات یہ لگتی ہے کہ یہاں کا انتظامیہ اور تدریسی عملہ طالبات کی ترقی، خود اعتمادی اور بہتر مستقبل کے لیے نہایت سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کوشاں رہتا ہے۔

انٹرویو: اُردو زبان قمر جہاں کے لیے تدریسی و غیر تدریسی دونوں میدانوں میں عزت و احترام کا سبب بنی

کالج طالبات کے ساتھ ڈاکٹر قمر جہاں (بالکل بائیں)

تدریسی یا غیر تدریسی سرگرمیوں کے دوران کبھی ’اردو ٹیچر‘ ہونے کے سبب کسی تفریق یا مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟

بالکل نہیں۔ تدریسی یا غیر تدریسی سرگرمیوں کے دوران مجھے کبھی بھی اردو ٹیچر ہونے کے سبب کسی تفریق یا دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اردو جیسی شستہ، دلکش اور تہذیبی زبان سے وابستگی ہمیشہ میرے لیے عزت و احترام کا سبب بنی ہے۔ تدریسی اور غیر تدریسی دونوں میدانوں میں مجھے ہمیشہ ساتھی ٹیچرز، پرنسپل اور انتظامیہ کی جانب سے عزت افزائی اور تعاون حاصل رہا۔ ساتھی اساتذہ اکثر اردو کے مختلف الفاظ، محاورات اور اصطلاحات کے معنی و مفہوم جاننے کے لیے رجوع کرتے ہیں اور اردو زبان کی شیرینی، لطافت اور دلکشی کو سراہتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ اس اعتبار سے نہایت خوشگوار رہا ہے کہ اردو زبان انسان کے لہجے، شخصیت اور تعلقات میں ایک خاص وقار اور نفاست پیدا کر دیتی ہے۔

جہاں جہاں کوئی اردو زبان بولتا ہے
وہیں وہیں مرا ہندوستان بولتا ہے


روزگار کے نظریہ سے آپ اردو کا مستقبل کیسا دیکھتی ہیں؟ کیا اردو طلبا و طالبات کو کسی خاص منصوبہ بندی کی ضرورت ہے؟

روزگار کے اعتبار سے اردو کا مستقبل یقیناً روشن اور امکانات سے بھرپور ہے، بشرطیکہ طلبا و طالبات اپنی صلاحیتوں کو صرف اردو زبان سیکھنے تک محدود نہ رکھیں۔ آج اردو داں طبقہ کے لیے صحافت، ترجمہ، میڈیا، تحقیق، تدریس، سول سروسز، مواد نویسی، پبلشنگ، ٹیلی ویژن اور آن لائن پلیٹ فارمز جیسے بے شمار شعبوں میں روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ عام طور پر یہ تاثر ضرور پایا جاتا ہے کہ اردو داں طبقہ کا مستقبل تاریک ہے یا ان کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہیں، لیکن میرے نزدیک اس کا سبب خود اردو زبان نہیں بلکہ ہماری محدود سوچ اور ناکافی منصوبہ بندی ہے۔ اردو پڑھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم دیگر ملکی یا غیر ملکی زبانوں سے خود کو دور رکھیں یا جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کو نظر انداز کریں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبا و طالبات اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں بھی مہارت حاصل کریں۔ وہ ترجمہ نگاری، کمپیوٹر، سوشل میڈیا، مواد نویسی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نئی ٹکنالوجی سے خود کو وابستہ رکھیں۔ اگر اردو کے طلبا اپنی زبان و ادب کی بنیاد کو برقرار رکھتے ہوئے جدید علوم اور ہنر سے بھی خود کو آراستہ کریں تو یقیناً ان کے لیے صرف تدریس ہی نہیں بلکہ اکیڈمکس سے ہٹ کر بھی متعدد شعبوں میں روزگار کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس طرح اردو کا مستقبل مزید روشن، تابناک اور باوقار ہوسکتا ہے۔

انٹرویو: اُردو زبان قمر جہاں کے لیے تدریسی و غیر تدریسی دونوں میدانوں میں عزت و احترام کا سبب بنی

مہیلا پی جی کالج کی اردو طالبات کے ساتھ اسسٹنٹ پروفیسر قمر جہاں (درمیان میں)

آپ ایک خاتون ہیں، جنھیں گھریلو ذمے داریاں بھی نبھانی ہوتی ہوں گی۔ کالج اور گھر کے کاموں میں توازن پیدا کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟

دیکھیے، یہ مسئلہ تقریباً ہر اس خاتون کے لیے اہم ہے جو معاشی طور پر خود مختار ہے اور پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ گھریلو ذمے داریاں بھی نبھا رہی ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے کی ساخت کچھ اس طرح ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کی ذمے داریاں دو چند ہو جاتی ہیں، کیونکہ نظریاتی سطح ہر ہم چاہے مساواتِ مرد و زن کے کتنے ہی بلند دعوے کریں، لیکن عملی طور پر آج بھی گھر، بچوں اور خاندان کی بنیادی ذمے داری زیادہ تر عورت ہی کی سمجھی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ایک ملازمت پیشہ خاتون کے لیے پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمے داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا یقیناً آسان نہیں ہوتا۔ بسا اوقات ذہنی اور جسمانی تھکن بھی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر وقت کی درست منصوبہ بندی، ترجیحات کا شعور ہو تو یہ مشکل کافی حد تک آسان ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک گھر اور پیشہ دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔