
مذہبی سرگرمی سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو اپنے گھرمیں مذہبی دعائیہ (عبادت) اجتماعات کے انعقاد کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہے بشرطیکہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے اس معاملے میں پولیس کی طرف سے ماضی میں جاری کیے گئے نوٹس کو منسوخ کردیا۔ عدالت نے پولیس انتظامیہ کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے شہری حقوق میں مداخلت نہ کی جائے۔
Published: undefined
ریاست کے جانجیر- چامپا ضلع کے نواگڑھ تھانہ علاقے کے گودھنا گاؤں میں رہنے والے دونوں درخواست گزاروں کی رہائش گاہ کی پہلی منزل پر2016 سے عیسائی پیروکاروں کے لیے ’پرارتھنا سبھا‘ (مذہبی سرگرمی) کی جاتی رہی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق مذکورہ سرگرمی کی وجہ سے نواگڑھ پولیس اسٹیشن کے انچارج انہیں انڈین سول سیکورٹی کوڈ 2023 کی دفعہ 94 کے تحت نوٹس دے کر پریشان کررہے ہیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ ایسی مذہبی سرگرمی کے دوران وہاں کوئی ہنگامہ آرائی یا غیر قانونی سرگرمی انجام نہیں دی جاتی اس کے باوجود نوٹس جاری کیے گئے۔
Published: undefined
عرضی میں کہا گیا ہے کہ 18 اکتوبر2025، 22 نومبر 2025 اور یکم فروری 2026 کو ان کی رہائش گاہ پر پرارتھنا سبھا منعقد کرنے سے روکنے کے لیے نوٹس بھیجے گئے تھے۔ درخواست گزاروں نے یہ بھی بتایا کہ گرام پنچایت گودھنا نے پرارتھنا سبھا منعقد کرنے کے لیے 'نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ' جاری کیا تھا لیکن دباؤ میں سرٹیفکیٹ واپس لے لیا گیا۔
Published: undefined
درخواست گزاروں نے عدالت سے نوٹس کو کالعدم کرنے اور پولیس انتظامیہ کو انہیں پریشان کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے دلیل دی کہ درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں اور وہ جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔ اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں نے کبھی بھی مجاز اتھارٹی سے اپنی پرارھتنا سبھا کے انعقاد کے لیے پیشگی اجازت نہیں لی، اس لیے پولیس اتھارٹی کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے۔
Published: undefined
فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس نریش کمار چندرونشی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عرضی گزار اس زمین کے رجسٹرڈ مالکان ہیں جہاں وہ 2016 سے اپنے گھر پر عیسائی پیروکاروں کے لیے دعائیہ پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو کسی شخص کو اپنے گھر پر مذہبی سرگرمی منعقد کرنے سے روکتا ہو۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی اتھارٹی سے پرارتھنا یا جلسہ منعقد کرنے کے لیے پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، خاص طور پر اگر وہ کسی قانون کی خلاف ورزی کئے بغیر منعقد کی جائیں۔
Published: undefined
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر صوتی آلودگی کی وجہ سے کوئی خلل پڑتا ہے یا امن و امان کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو متعلقہ دفعات کے تحت ضروری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزاروں کے شہری حقوق میں مداخلت نہ کرے اور انہیں تفتیش میں ہراساں نہ کرے۔ عدالت نے اس معاملے میں پولیس کی طرف سے جاری نوٹس کو بھی منسوخ کر دیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined