طنز و مزاح: آدھی رات کا وقت...ابھے شکلا

ابھے شکلا اپنے اس مضمون میں تحریر کر رہے ہیں کہ 14 اگست 1947 کی آدھی رات کی تقریر اور 23 جولائی کی آدھی رات کی ریل کے درمیان کہیں ہماری جمہوریت کے زوال کی کہانی پوشیدہ ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے&nbsp;آئی</p></div>
i
user

ابھے شکلا

آدھی رات کو مودی کیسے دکھائی دیتے ہیں، اس کی ایک جھلک دیکھ لینے اور موبائل فون پر ٹیلی پرامپٹر سیٹ کرنا سیکھ لینے کے بعد، آئیے اب جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے ان پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جو اب تک کی رپورٹوں میں سامنے نہیں آئے۔

آدھی رات کو قوم سے خطاب کرنے والے ہمارے دو وزرائے اعظم کے تقابل سے بہتر ہماری جمہوریہ کے زوال اور اس کی قیادت کے گرتے ہوئے معیار کو جانچنے کا نمونہ نہیں ہو سکتا۔ 14 اگست 1947 کی آدھی رات کو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دنیا کے سامنے ’ٹریسٹ ود ڈیسٹنی‘ کے عنوان سے اپنا وہ تاریخی اور لازوال خطاب کیا تھا، جسے کسی بھی قومی رہنما کے کہے گئے عظیم ترین الفاظ میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا خطاب تھا جو نومولود ملک کے لیے فخر، کامیابی، دوراندیشی اور امید سے لبریز تھا۔

اس کے برعکس، 23 جولائی 2026 کی آدھی رات کو ہمارے موجودہ وزیر اعظم جناب مودی نے بھی اپنے موبائل فون سے ایک مختصر ویڈیو پیغام جاری کیا، لیکن ملک کی آزادی کا جشن منانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے سے باہر نکلنے کی ناکام کوشش میں۔ یہ ایک تھکا ہارا خطاب تھا، جس سے ڈھونگ، ریاکاری اور کھوکھلے وعدوں کی بو آ رہی تھی۔ جہاں نہرو کے الفاظ نے پورے ملک میں نئی توانائی بھر دی تھی، وہیں مودی کے الفاظ کو صرف ان کے تقریر نویس ہی یاد رکھیں گے اور یہ فرض کر لینا چاہیے کہ ایسا کرتے ہوئے انہیں گہری شرمندگی محسوس ہوگی۔ امید ہے کہ اب جبکہ دھرمیندر پردھان خود تاریخ بن چکے ہیں، ہمیں یہ الفاظ این سی ای آر ٹی کی تاریخ کی کتابوں میں پڑھنے کو نہیں ملیں گے، اگرچہ اس دور میں کسی بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی!

جارج آرویل نے کہا تھا کہ ’ہر مذاق ایک انقلاب ہوتا ہے‘ اور وہ سو فیصد درست تھے۔ آخر جنتر منتر پر شروع ہونے والی طلبہ تحریک کی شروعات بھی تو ایک مذاق ہی سے ہوئی تھی اور اس ناپسندیدہ مذاق کے محرک کوئی اور نہیں، بلکہ ہمارے ملک کے معزز چیف جسٹس سوریہ کانت تھے۔ ان کے ایک مذاق نے، جس میں انہوں نے نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچ‘ سے کیا تھا، ملک بھر کے ان ناقابلِ شکست سمجھے جانے والے کاکروچوں کو ان دراڑوں سے باہر نکل آنے پر مجبور کر دیا جن میں حکومت کی پالیسیوں نے انہیں دھکیل دیا تھا۔ وہ براہِ راست سیاست اور عوامی احتجاج کے میدان میں آ گئے اور انہوں نے دنیا کی طاقتور ترین سیاسی جماعتوں اور آمرانہ حکومتوں میں سے ایک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

معزز چیف جسٹس یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے اپنے اس آئینی کارنامے کو مزید یادگار بنا دیا۔ انہوں نے ایک وکیل کی اس عرضی پر ابتدائی طور پر غور کرنے سے انکار کر دیا، جس میں 20 جولائی کو دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے بعد میں مسترد بھی کر دیا گیا۔ عوامی سطح پر موجود بے شمار ویڈیو شواہد کے باوجود، مبینہ طور پر انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پولیس تشدد کی ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ اس نے فطری طور پر نوجوانوں کے غصے اور عزم کو مزید بھڑکا دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 25 جولائی کو حکومت نے مکمل طور پر گھٹنے ٹیک دیے اور شکست تسلیم کر لی۔


اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ ’جنریشن ایکس، وائی، زیڈ‘—مجھے کبھی سمجھ نہیں آتا کہ آج کی نسل کے لیے کون سا حرف درست ہوگا—اپنی اس تاریخی کامیابی کا مناسب کریڈٹ معزز چیف جسٹس کو دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان میں جمہوریت کے تحفظ اور قانونِ انصاف کے قیام میں معزز سوریہ کانت کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔

تاہم، اس نرے باؤلے کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ عدالت کی توہین کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک ایسی طاقت ہے جسے استعمال کرنے کے لیے عدالتیں بخوشی تیار رہتی ہیں۔ اسی لیے اس مسخرے کی تجویز مسترد کر دی گئی اور اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ وہ بغیر کسی ہنگامے کے چلا بھی گیا۔ اسے سمجھانے کے لیے کسی لاٹھی چارج کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔

اب آتے ہیں جناب پردھان کے استعفے کے خط کی طرف۔ اپنے کیریئر میں میں نے طرح طرح کے استعفے دیکھے ہیں۔ ایک میں لکھا تھا، ’’محترم جناب، میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ آپ کے اس بڑے نقصان کے لیے میری تعزیت قبول کریں۔‘‘ ایک معاملے میں تو صاحب اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے لیے باقاعدہ بینڈ باجا اور رقاص بھی ساتھ لے آئے تھے!

ہمارے ہماچل میں یہ انوکھا پن عام بات ہے—چاہے استعفیٰ ہو، ریٹائرمنٹ ہو یا معطلی! یہاں لوگوں کو بس ’انگوری‘ نامی معروف دیسی شراب کی بوتل کھولنے اور دائرہ بنا کر ناچنے کا بہانہ چاہیے۔ ریٹائرمنٹ ہو تو گھڑی کی سمت میں اور استعفیٰ ہو تو گھڑی کی مخالف سمت میں!

لیکن پردھان کا استعفیٰ ڈھٹائی اور گوبر چھاپ دیدہ دلیری کے معاملے میں سب پر بھاری پڑا۔ یہ کوئی استعفیٰ نہیں ہے؛ یہ ایک تحقیقی مقالے، بایوڈیٹا اور کردار کے سرٹیفکیٹ کا ملا جلا روپ ہے! یہ وہ الوداعی تقریر ہے جسے انہیں دینے کی زحمت کسی نے نہیں کی۔


یہ مجھے جم ریوز کے اس اداس گیت کی یاد دلاتا ہے: ’’آئی مسڈ می، ہاؤ آئی مسڈ می ایٹ یور ہوم لاسٹ نائٹ…‘‘ بس ’یور ہوم‘ کی جگہ ’مائی آفس‘ کر دیجیے، تو وزیر صاحب اس پر ایک میوزک ویڈیو بنا کر ’جین آر ڈی ایکس‘ اور ’شکیرا‘ سے داد وصول کر سکتے ہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں پا رہا کہ یہ استعفیٰ ہے یا سنت بننے کی درخواست! جیسا کہ کسی نے کہا، انہیں بس اتنا لکھ دینا چاہیے تھا، ’’بھائی، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ اب مجھے کرسی خالی کرنی ہوگی۔‘‘ اس میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے صاف اور سچی بات ہوتی۔

خیر، کوئی بات نہیں۔ شاید اگلا وزیر اپنے وقت پر اس خط کو استعمال کر لے!

اور آخر میں محترمہ کنگنا ’رن آؤٹ‘ کے بارے میں کوئی کیا ہی کہے؟ زلزلہ زون چھ میں ہونے کے باوجود 2025 تک ہماچل میں کوئی آتش فشاں نہیں تھا۔ پھر محترمہ ’رن آؤٹ‘ پھٹ پڑیں اور تب سے باقاعدگی سے پھٹتی رہی ہیں، اپنے اور اپنی پارٹی کے چہرے پر راکھ اور کالک ملتی ہوئی۔

کنگنا ایک ایسی قدرتی آفت ہیں جس سے نمٹنے کا این ڈی آر ایف کے پاس بھی کوئی طریقہ نہیں اور جس کے لیے مالیاتی کمیشن ریاست کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیتا۔ کسان تحریک کے اپنے تلخ تجربات کے بعد انہوں نے جنتر منتر پر بیٹھی نڈر اور بہادر بیٹیوں کو نیچا دکھا کر اور ان کی توہین کر کے وہی غلطی دوبارہ کیوں دہرائی؟

میری اہلیہ نیرجا کے پاس—اس تیز ذہانت کے ساتھ جو صرف خواتین کے پاس ہوتی ہے—اس کا ایک جواب ہے: کنگنا دراصل گاندھی وادی ہیں! گزشتہ سال ایک سکھ خاتون پولیس کانسٹیبل سے ایک گال پر تھپڑ کھانے کے بعد اب وہ دوسرے گال پر بھی تھپڑ کھانا چاہتی ہیں، تاکہ یہ ’مقدس سلسلہ‘ مکمل ہو سکے۔ شاید ان کی یہ منت جلد ہی پوری ہو جائے—خدا کبھی کسی بندے کو مایوس نہیں کرتا!

(ابھے شکلا سبکدوش آئی اے ایس ہیں۔ یہ https://avayshukla.blogspot.com سے ان کے مضمون کے ترمیم شدہ اقتباسات ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔