’پیپر لیک کی راجدھانی بنتا جا رہا ہے بہار‘، تیجسوی یادو کا جے ڈی یو-بی جے پی حکومت پر حملہ

آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے بہار میں امتحانی بے ضابطگیوں اور قانون و انتظام کی صورت حال پر این ڈی اے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے طلبہ پر لاٹھی چارج اور اے کے-47 کے استعمال کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو</p></div>
i

آر جے ڈی رہنما اور بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے ریاست میں بگڑتی ہوئی قانون و انتظام کی صورت حال اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کو لے کر اتوار کو این ڈی اے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار اب ایگزام پیپر لیک کی راجدھانی بنتا جا رہا ہے اور ریاست میں نظم و نسق پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات سمیت مختلف مسابقتی امتحانات بھی بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے افشا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق امتحانات میں شفافیت کے فقدان سے طلبہ اور نوجوانوں کا نظام پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

آر جے ڈی رہنما نے طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب طلبہ سوالیہ پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کے ساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے اور ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف اے کے-47 رائفل کا بھی استعمال کیا گیا۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن میں شامل جماعتیں سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اے کے-47 کے استعمال کے معاملے کو لے کر 19 اگست کو پٹنہ میں واقع لوک بھون تک مارچ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کے رہنما سیوان کے واقعے کے سلسلے میں گورنر کو ایک یادداشت بھی پیش کریں گے۔


انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں اے کے-47 استعمال کرنے والے ایک سپاہی کو معطل کرنا کافی نہیں ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ اس افسر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف اے کے-47 کے استعمال کا حکم دیا تھا۔

دریں اثنا، بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے ارکان نے نیٹ سوالیہ پرچے لیک اور مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے خلاف 25 جولائی کو بہار بند کی حمایت میں ریاست کے کئی اضلاع میں احتجاج کیا تھا۔ اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

بہار بند کے دوران پٹنہ، سارن، سیوان، اورنگ آباد، بھاگلپور، سیتامڑھی، پورنیہ اور بھوجپور میں احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی تھی، جبکہ سمستی پور، نوادہ، نالندہ، مدھوبنی اور شیخ پورہ میں نسبتاً معمولی مظاہرے ہوئے تھے۔

پولیس اس سے قبل اس سپاہی کو معطل کر چکی ہے جس پر سیوان میں احتجاج کے دوران اے کے-47 ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم، تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی ذمہ داری صرف سپاہی کی معطلی تک محدود نہ رکھی جائے بلکہ مبینہ طور پر حکم دینے والے اعلیٰ افسر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔