مزاحمتیں بہت ہیں، مگر انہیں جوڑنے والا مشترکہ سیاسی بیانیہ نہیں...جے دیپ ہاردیکر

ہندوستان میں طلبہ، کسانوں، مزدوروں، قبائلیوں اور ماحولیاتی کارکنوں کی مزاحمتیں بڑھ رہی ہیں، مگر ان تحریکوں کو ایک مشترکہ جمہوری زبان اور سیاسی سمت دینے والا رشتہ ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

فرانسیسی فلسفی اور سیاسی مفکر مشیل فوکو نے 1978 میں اپنی تصنیف ’جنسیات کی تاریخ‘ میں لکھا تھا، ’’جہاں اقتدار ہے، وہاں مزاحمت بھی ہے۔ لیکن اس مزاحمت کا کوئی ایک قلعہ یا واحد بڑی شکل نہیں ہوتی؛ یہ پورے معاشرے میں پھیلی ہوتی ہے اور جہاں کہیں اقتدار اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے، مزاحمت بھی وہیں سر اٹھا لیتی ہے۔‘‘ آج ہندوستان میں ابھرنے والی مزاحمتی تحریکوں کو دیکھنے کے لیے یہ ایک بہتر زاویہ ہو سکتا ہے۔

جون اور جولائی 2026 کے دوران دہلی کا جنتر منتر احتجاجی مظاہروں کا ایک بڑا مرکز بنا رہا۔ ابتدا میں امتحانی پرچوں کے افشا کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک، جسے عمومی طور پر ’جین زی‘ کا احتجاج کہا گیا، جلد ہی نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ مختلف طبقات نے اسے اس آمرانہ طرز حکومت کے خلاف اب تک کی سب سے معتبر مزاحمت سمجھتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے ملک کے دوسرے حصوں، ریاستی راجدھانیوں اور چھوٹے شہروں میں بھی احتجاج کو تحریک دی اور اس کی بازگشت دور دور تک سنائی دی۔ جنتر منتر نے ملک کے مختلف گوشوں سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس کی حمایت کرنے والے سبھی لوگ نہ تو امتحان دینے والے تھے اور نہ ان کی شکایات ایک جیسی تھیں، لیکن ان سب کے غصے کا رخ بلا استثنا اس حکومت کی طرف تھا جسے وہ تکبر، کرونی سرمایہ داری اور اداروں پر قبضے سے جوڑتے ہیں۔

جنتر منتر کی اپنی ایک معروف تاریخ رہی ہے۔ کسان، طلبہ، صنعتی مزدور، سرکاری ملازمین، ماحولیاتی کارکن، قبائلی، خواتین، غیر منظم شعبے کے مزدور اور اپنی شہریت کے حوالے سے فکرمند اقلیتی برادریاں، سب اپنی مانگیں اور شکایات لے کر اس معروف احتجاجی مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ وہ مختلف اوقات میں مختلف بینروں کے تحت یہاں جمع ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ کے اس موڑ پر ملک بھر میں متعدد تحریکیں جاری ہیں۔ تاہم، اس وقت ہمارے پاس جو چیز موجود نہیں، وہ ایک مشترکہ لغت اور ایسا سیاسی آئین ہے جو ان بکھری ہوئی تحریکوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکے۔


ایسا نہیں ہے کہ یہ صورت حال مزاحمت کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔ شاید یہ اقتدار کی نئی شکل کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے کہ کرونی سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ، جو موجودہ اقتدار کی شناخت بن چکا ہے، نے اقتدار اور عام شہری کے درمیان تعلق کی نوعیت ہی بدل دی ہو۔ بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں مزاحمت کا تصور عام شہری بمقابلہ اقتدار کے طور پر کیا جاتا تھا۔ ریاست یعنی حکومت ہی بنیادی فریقِ مخالف تھی۔ ہماری تحریکِ آزادی کا ایک قومی مقصد تھا۔ گاندھی نے ’سودیشی‘ کی بات کی۔ امبیڈکر نے آئینی جمہوریت کے ذریعے ذات پات کے خاتمے میں قومی آزادی کا تصور دیکھا۔ بائیں بازو نے طبقاتی نظریے کے گرد مزدوروں اور کسانوں کو منظم کیا۔ جے پی تحریک آمرانہ طرز حکومت کے خلاف ایک قومی ردعمل تھی۔ یہ تمام تحریکیں ایک قومی تصور اور مشترکہ قومی تخیل پر قائم تھیں۔

1990 کی دہائی میں معاشی لبرلائزیشن نے اس منظرنامے کو بدل دیا۔ اس نے ریاست کو منظر سے غائب تو نہیں کیا، لیکن ریاست، سرمایہ اور معاشرے کے درمیان تعلق کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس نئے توازن سے شہری سماج کا ایک نیا ماحولیاتی نظام وجود میں آیا۔ غیر سرکاری تنظیمیں تعلیم سے لے کر زراعت اور ماحولیاتی سرگرمیوں تک مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر سرگرم ہوئیں۔ بین الاقوامی مالی اعانت نے پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے اور عوامی متحرک کاری کے لیے نئے امکانات پیدا کیے۔ جیسے جیسے لبرلائزیشن آگے بڑھی، حقوق پر مبنی تحریکیں بھی عوامی زندگی کی ایک اہم خصوصیت بنتی گئیں۔

1990 کی دہائی نے ایک نئی نوعیت کی سیاست کو جنم دیا: پیشہ ورانہ، نیٹ ورک پر مبنی، مخصوص مسائل پر مرکوز اور خاص گروہوں و مطالبات کے گرد منظم سیاست۔ اس دور کی عالمگیریت مخالف تحریکوں نے ان شرائط کو چیلنج کیا جن کے تحت ہندوستان عالمی معیشت میں داخل ہوا تھا۔ ماحولیاتی سرگرمیوں نے ریاست اور اس کے ترقیاتی ماڈل پر سوال اٹھائے۔ حقوق پر مبنی مہمات نے ریاست کو شہریوں کے تئیں زیادہ جواب دہ بنانے کی کوشش کی۔ شہری سماج عام شہری اور ریاست کے درمیان موجود خلا میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھرا۔ بعض اوقات اس کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کے نتیجے میں اطلاعات کے حق، جنگلات کے انتظام اور دیگر شعبوں میں حقوق پر مبنی قوانین بھی وجود میں آئے۔

تین دہائیوں بعد اس ٹکراؤ کی نوعیت ایک بار پھر بدل گئی ہے۔ اب معاملہ محض مقامی بمقابلہ عالمی یا ریاست بمقابلہ شہری سماج کا نہیں رہا۔ ایک کسان کو اپنی فصل کی قیمت، پیداواری لاگت، قرض تک رسائی، سرکاری خرید اور زمین کی ملکیت کے معاملات میں بیک وقت ریاست اور بازار، دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طالب علم بھی تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت، امتحانات اور سرکاری اداروں کی ساکھ اور روزگار کے امکانات کے معاملے میں ان دونوں طاقتوں سے دوچار ہے۔ ایک مزدور غیر یقینی روزگار، نقل مکانی اور سماجی تحفظ کے فقدان کے درمیان ان کا سامنا کرتا ہے۔ ایک قبائلی فرد بے دخلی کے مسئلے میں ان طاقتوں سے ٹکراتا ہے۔ جہاں کہیں ’ترقی‘ اور لالچ طویل مدتی ماحولیاتی پائیداری سے متصادم ہوتے ہیں، وہاں ماحولیاتی تحریکیں ان کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔

ان تمام مزاحمتوں کی جڑ میں ایک ہی سوال موجود ہے: ملک کے قوانین اور ضوابط آخر کس کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں؟ کیا بڑے کسانوں، زرعی مزدوروں، طلبہ، صنعتی کارکنوں، ماحولیاتی کارکنوں، بے دخل کیے جانے والے قبائلی برادریوں، غیر منظم شعبے کے مزدوروں اور اکثریت پسندی کی آندھی میں گھرے غیر یقینی صورتحال کا شکار اقلیتوں کے درمیان کوئی مشترکہ زمین موجود ہے؟ ایک ساتھ موجود سو تحریکیں بھی اس کے باوجود اقتدار کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو سکتی ہیں، اگر ہر تحریک اپنی الگ زبان اور اپنی مخصوص اصطلاحات کے دائرے میں قید رہے۔


طلبہ کے حالیہ احتجاج اور اس سے پہلے ہونے والی کسان تحریک میں کچھ اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔ سڑکوں پر ہونے والی ان دونوں پُرامن تحریکوں نے مختلف مفادات، پس منظر اور سیاسی وابستگی رکھنے والے لوگوں اور تنظیموں کو ایک ساتھ لانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہیں ایک مشترکہ زمین ملی: شاید یہ یقین کہ بازار اور ریاست کے ساتھ تعلق کی شرائط ان پر من مانے طریقے سے مسلط نہیں کی جا سکتیں۔

ایک نوجوان اور فکرمند ہندوستان کے پاس اپنے غصے اور اپنی امنگوں کے اظہار کے لیے ایک نئی لغت ابھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نسل دنیا سے جڑی ہوئی ہے اور مقامی، قومی اور عالمی تبدیلیوں سے باخبر ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی اور انتہائی طاقتور قوتوں کے ذریعے لائی جانے والی بڑی تبدیلیوں کی گواہ بھی ہے اور ان سے متاثر ہونے والی نسل بھی۔ حکومت کو جھکانے اور اپنے کچھ مطالبات منوانے کا جوش قابلِ فہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

کیا ملک کے عدم اطمینان میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو ایک مشترکہ جمہوری سیاسی آئین میں باندھ کر اس مزاحمت کو کوئی سمت دی جا سکتی ہے؟ جب ہم ایک اور یومِ آزادی منا رہے ہیں، تو کیا ہم، ہندوستان کے عوام، ایک مشترکہ جمہوری منصوبے کو ازسرنو زندہ کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔