
تباہی کا منظر۔ ویڈیو گریب
ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں سیلاب اور لینڈ سلائڈ کے واقعات سے زبردست تباہی مچی ہے۔ آسام سے لے کر منی پور تک بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ فصل کی زمین تک برباد ہو گئی ہے اور لوگوں کے پاس رہنے کے لیے گھر تک نہیں ہے۔ 1500 سے زیادہ گاؤں زیر آب ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
آسام میں مزید دو لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جس کے بعد سکم سمیت 7 شمال مشرقی ریاستوں میں سیلاب اور لینڈ سلائڈ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 50 ہو گئی ہے۔ 29 مئی سے اب تک اکیلے آسام میں 19 لوگوں کی جان چلی گئی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے افسروں کے ذریعہ دستیاب کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 29 مئی سے اب تک اروناچل پردیش میں 12، میگھالیہ میں6، میزورم میں 5، سکم میں 4، تریپورہ میں 2 اور ناگالینڈ اور منی پور میں 1-1 جان سیلاب اور لینڈ سلائڈ کی وجہ سے گئی ہے۔
Published: undefined
آسام میں سیلاب کی حالت انتہائی سنگین ہے۔ یہاں 21 ضلعوں میں متاثرہ لوگوں کی تعداد بڑھ کر 6.8 لاکھ پو چکی ہے۔ برہمپتر سمیت 9 ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں گاؤں زیر آب ہو گئے ہیں۔ گوہاٹی واقع علاقائی موسم سائنس مرکز نے ریاست میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
Published: undefined
منی پور میں شدید بارش سے ندیوں کے پشتے منہدم ہو گئے جس سے 20 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 3365 سے زیادہ گھروں کو نقصان ہوا ہے اور 103 بسیاں زیر آب ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے 31 راحت کیمپ بنائے ہیں جس میں زیادہ تر مشرقی امپھال میں ہیں۔
Published: undefined
ارونا پردیش کے 23 ضلعوں اور 156 گاؤں میں سیلاب اور لینڈ سلائڈ کا قہر برپا ہے۔ یہاں اب تک 10 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ کئ مقامات پر زمین دھنسنے سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔
ناگالینڈ میں بھی مسلسل بارش سے کئی مقامات پر زمین کھسکنے کے واقعات پیش آنے کی خبر ہے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کئی علاقوں میں گھروں اور سڑکوں کو نقصان ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق 5 اور 6 جون کو گجرات کے بناس کانٹھہ، پاٹن، مہسانہ، سابر کانٹھہ، اراولی، گاندھی نگر، احمد آباد، مہی ساگر، پنچ محل، داہود، بڑودرہ، چھوٹا اُدئے پور، نرمدا، بھروچھ، سورت، تاپی، ڈانگ، نوساری، بلساڈ ضلعوں میں زیادہ تر مقامات پر گرج اور بجلی کے ساتھ ہلکی سے درمیانی سطح کی بارش ہونے کا امکان ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined