انسانیت شرمسار! نومولود کی موت، بے بس باپ نے سڑک کنارے ہی ادا کردی آخری رسوم

ڈسٹرکٹ اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو نے بتایا کہ نومولود قبل از وقت ہوا تھا اور والد کو اسے گھر تک لے جانے کے لیے لاش گاڑی تک کا انتظام کیا گیا تھا لیکن اس نے لاش گاڑی میں لے جانے سے انکار کردیا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی فوٹو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مدھیہ پردیش کے سیہور میں انسانیت کو شرمسارکر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک بے بس والد نے سڑک کنارے ہی اپنی نومولود بچی کی آخری رسوم اداکردیں۔ دل دہلا دینے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو اب منظرعام پر آیا ہے اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس شرمناک واقعے کی ویڈیو6 جنوری کی بتائی جارہی ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق سنتوش جاٹ کی بیوی ممتا جاٹ کو 30 دسمبر کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ 2 جنوری 2026 کی رات 2 بجکر 22 منٹ پر خاتون نے قبل از وقت ایک بچی کو جنم دیا جس کا وزن صرف 900 گرام تھا۔ بچی کو تشویشناک حالت میں ایس این سی یو میں داخل کرایا گیا، جہاں 5 جنوری کوعلاج کے دوران سہ پہر 3:30 بجے اس کی موت ہوگئی۔


معصوم کی موت کے بعد والد سنتوش جاٹ نے ضلع اسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگایا اور اسپتال کے سامنے سڑک پر بیٹھ گیا۔ وہیں کافی مشقت کے بعد سنتوش کو سڑک سے ہٹا یا گیا۔ اسپتال کے انتظامات سے دلبرداشتہ ہو کر بے بس باپ نے بیٹی کو گھر لے جاتے وقت اپنی بچی کی سڑک کنارے ہی آخری رسومات اداکردیں۔

معاملے میں ڈسٹرکٹ اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو نے بتایا کہ نومولود قبل از وقت ہوا تھا اور والد کو اسے گھر تک لے جانے کے لیے لاش گاڑی تک کا انتظام کیا گیا تھا لیکن اس نے لاش گاڑی میں لے جانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کی جانب سے کوئی غفلت نہیں برتی گئی ہے۔ فی الحال اسپتال انتظامیہ کچھ بھی کہے لیکن اس واقعہ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔