مدھیہ پردیش: ریٹائرڈ ملازمین کو دیے گئے چاندی کے سکے تانبے کے نکلے، سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ
مدھیہ پردیش کے ریلوے ڈپارٹمنٹ کے اندر گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے، جہاں ریٹائرڈ ملازمین کو اعزاز کے طور پر دیے جانے والے چاندی کے سکے دراصل تانبے کے بنے تھے۔

مدھیہ پردیش کے ریلوے ڈپارٹمنٹ میں ایک چونکا دینے والا بدعنوانی کا معاملہ سامنے آیا ہے جسے 'سلور اسکیم' یعنی چاندی گھوٹالہ کہا جاتا ہے۔دراصل خبروں کے مطابق ریلوے ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ پر اعزاز کے طور پر دیئے گئے چاندی کے سکے تانبے کے نکلے۔ اس انکشاف نے نہ صرف محکمہ ریلوے میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ ان ہزاروں سابق ملازمین میں بھی غم و غصے کو جنم دیا ہے جنہوں نے انہیں عزت کی نشانی کے طور پر اپنے پاس رکھا تھا۔
ریلوے کی روایت کے مطابق، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں 2023 اور 2025 کے درمیان ریٹائر ہونے والے ملازمین کو 20 گرام وزنی چاندی کا سکہ دیا گیا۔ ضوابط کے مطابق، یہ سکے 99فیصد خالص چاندی کے ہونے چاہیے تھے، لیکن ایک حالیہ تحقیقات سے یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ ان سکوں میں چاندی کا مواد نہ ہونے کے برابر ہے اور 99فیصد تانبے سے بنا ہے۔
اس دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہونے کے بعد محکمہ ریلوے نے بھوپال کے بجریا پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔ پولیس کے مطابق ریلوے نے بتایا کہ تانبے کے سکے چاندی کی آڑ میں تقسیم کیے گئے۔ دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے ریٹائرڈ ملازمین نے اسے اپنی توہین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سکے ان کی زندگی بھر کی خدمات کا اعتراف تھے، جنہیں کوئی نہیں بیچتا، اس لیے کمپنی نے اس کا فائدہ اٹھایا اور یہ بڑے پیمانے پر گھپلہ کیا۔ متاثرہ ملازمین نے اب پورے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ریلوے کے اندر اور باہر اصل مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ریلوے کئی دہائیوں سے اپنے ملازمین میں یہ سکے تقسیم کر رہا ہے۔ اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ گھوٹالہ صرف مدھیہ پردیش تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر ریلوے ڈویژنوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ فی الحال، ریلوے ویجیلنس ٹیم اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کھلے ٹینڈر کے عمل کے باوجود اتنی بڑی کوتاہی کیسے ہوئی اور کون سے اہلکار اس کے ذمہ دار ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔