ہم ہیں کامیاب-1: سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک کمپنی جس کو قائم کرنے کے لیے دینی پڑی ’خواب کی قربانی‘

سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد یوں تو 2019 میں پڑی، لیکن اس کمپنی کا بیج 2015 میں ہی بو دیا گیا تھا۔ اُس وقت کمپنی کا نام ’اِنسس اوورسیز‘ رکھا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے بانی اور سی ای او عقیل احمد اپنے دفتر میں کام کرتے ہوئے، گرافکس ’قومی آواز‘</p></div>
i
user

تنویر احمد

نئے سال میں ’قومی آواز‘ کے قارئین کے لیے مزید ایک نیا سلسلہ پیش خدمت ہے۔ ’ہم ہیں کامیاب‘ نام سے شروع کیا گیا یہ سلسلہ صنعت و حرفت کے میدان میں کامیابی کی نئی داستان لکھنے والوں کو ’سلام‘ پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ’ہم ہیں کامیاب‘ کے تحت کچھ ایسی کمپنیوں یا اداروں سے آپ کا تعارف کرایا جائے گا، جس نے کم وقت میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ ہر ماہ کے دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو ایک نئی کمپنی یا ادارے کی جدوجہد اور محنت و مشقت کی داستان آپ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ کمپنیوں یا اداروں کے انتخاب میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ یہ رجسٹرڈ ہو اور 20 سال سے زیادہ پرانی نہ ہو۔ ہماری یہ کوشش نہ صرف ایک نیا اسٹارٹ اَپ شروع کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی، بلکہ اُن لوگوں کو رہنمائی بھی ملے گی جو اپنی قوت اور صلاحیت سے نئی کمپنی کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ ارادہ ہے کہ یہ سلسلہ پورے سال جاری رہے اور ہر بار ایک نئے شعبہ میں کامیابی کی داستان رقم کرنے والی کمپنی یا ادارہ سے آپ کی ملاقات کروائیں۔

——————————————

2012 کی بات ہے، جب 21 سال کا ایک نوجوان پتھر کی مسجد (پٹنہ، بہار) سے راجدھانی دہلی تعلیم حاصل کرنے پہنچا تھا۔ ملک کی تاریخی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اُس نے جب ’روسی زبان‘ میں بی اے کرنے کا فیصلہ کیا، تو سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ہندوستان اور روس کے درمیان تجارتی رشتوں کو مضبوطی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ بن جائے گا۔ اُس نوجوان نے اپنی سخت محنت اور جدوجہد کے دَم پر ’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ (Sacred Leaves Pvt Ltd) نامی ایک ایسی کمپنی کھڑی کر دی، جو آیورویدک دوائیں ہندوستان سے روس برآمد کرتی ہے۔ ہم جس نوجوان کی بات کر رہے ہیں، اُس کا نام ہے عقیل احمد۔ انھوں نے آیورویدک دواؤں کی برآمدات روس سے ضرور شروع کی، لیکن اب امریکہ اور یوکرین جیسے ممالک میں بھی برآمدات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ہم ہیں کامیاب-1: سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک کمپنی جس کو قائم کرنے کے لیے دینی پڑی ’خواب کی قربانی‘

سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد یوں تو 2019 میں پڑی، لیکن اس کمپنی کا بیج 2015 میں ہی بو دیا گیا تھا۔ اُس وقت کمپنی کا نام ’اِنسس اوورسیز‘ رکھا گیا۔ 2015 کے آخر میں یہ کمپنی رجسٹرڈ ہوئی اور چھوٹی سطح پر دوائیں روس برآمد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ عقیل احمد بتاتے ہیں کہ ان کی ملاقات روس کے ایک شخص سے ہوئی تھی، جس کو نہ صرف آیورویدک دوائیں چاہیے تھیں بلکہ ایسا بھروسہ مند شخص بھی چاہیے تھا جو ان کی ضرورتوں کو ایماندارانہ طریقے سے پورا کر سکے۔ اس موقع کو عقیل احمد نے روسی زبان کے تئیں اپنی دلچسپی کو ’زمین سے آسمان‘ تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ تصور کیا، لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ یہاں یہ ذکر لازمی ہے کہ روسی زبان کے تئیں اپنی محبت کو عروج بخشنے کے لیے عقیل احمد کو ’یو پی ایس سی‘ نکالنے کا اپنا خواب ترک کرنا پڑا، جس کی تیاری وہ 2015 میں شروع کر چکے تھے۔ یعنی سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ کا وجود ’ایک خواب کی قربانی‘ کا ثمرہ ہے۔


عقیل احمد کہتے ہیں کہ ’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کی کامیابی کے پیچھے ’اِنسس اوورسیز‘ کی جدوجہد شامل ہے۔ 2015 میں جب آیورویدک دوا کا پہلا سیمپل روس روانہ کیا گیا، تو اس کے بعد 8-7 ماہ بہت آزمائش والے تھے۔ کوشش یہ تھی کہ روس میں کچھ ایسے اداروں سے رابطہ ہو جس سے کمپنی کو مضبوطی ملے اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی حاصل ہو۔ اس مقصد سے ایک ’فیس بک پیج‘ تیار کیا گیا، لیکن اس کا کچھ خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔ عقیل احمد نے بتایا کہ انفرادی کوششوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے 2016 کے آخر تک محنت نے اثر دکھانا شروع کیا۔ 2019 میں محسوس ہوا کہ عالمی سطح پر تجارت کو آسان بنانے اور برآمدات کے اصول و ضوابط پر عمل کرنے کے لیے ضرورت ایک ’پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کمپنی کی ہے۔ یہی موقع تھا جب ’اِنسس اوورسیز‘ نے ’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کی شکل اختیار کر لی۔

اس کمپنی میں سب سے پہلی ملازمت محمد سراج کو ملی، جو 2016 سے اب تک عقیل احمد کی قیادت میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ ’پرچیز مینجمنٹ‘ کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہر نئے آرڈر کے ساتھ انھیں کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔ کمپنی کے ایک دیگر ملازم امت کمار، جو کہ ویئرہاؤس منیجر ہیں، نے دفتر میں دوستانہ ماحول کا ذکر کیا جو کہ کسی بھی کمپنی کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہر خوشی اور تہوار کے موقع پر ایک ساتھ جشن منانا اپنائیت کا احساس کراتا ہے۔ دیوالی، عید اور ہولی جیسے تہواروں میں کمپنی کے سبھی اراکین جس طرح یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ دفتر کے ماحول کو بہت خوشگوار بناتا ہے۔


اس کمپنی میں تقریباً 2 درجن افراد کو مستقل ملازمت حاصل ہے۔ اکاؤنٹ منیجر جتیندر نے بتایا کہ کمپنی مجموعی طور پر ماہانہ 8 لاکھ روپے تنخواہ پر خرچ کرتی ہے۔ کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور تقریباً 13 کروڑ روپے ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کمپنی کے ملازمین ایک خوشنما ماحول میں محنت اور ترقی کی داستان کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ حالانکہ ایک دور ایسا آیا تھا جب کمپنی کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ وقت تھا کورونا وبا کا۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کورونا وبا کے دوران کئی کمپنیاں بند ہو گئیں اور روزگار کے مواقع ختم ہو گئے۔ تباہی کے اُس دور میں ’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو استحکام بخشنے اور ملازمین کو ہر طرح کے مسائل سے بچانے کے لیے عقیل احمد نے ایک خاص قدم اٹھایا۔ انھوں نے بیرون ممالک دوائیں برآمد کرنے کی اپنی بنیادی خدمات سے ہٹ کر چین سے کچھ اہم طبی آلات درآمد کرنا شروع کیا، جو ایک حوصلہ بخش قدم ثابت ہوا۔

ہم ہیں کامیاب-1: سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک کمپنی جس کو قائم کرنے کے لیے دینی پڑی ’خواب کی قربانی‘

عقیل احمد کا کہنا ہے کہ ’’کورونا کا وقت ہمارے لیے بہت ہی آزمائش والا تھا۔ ہوائی خدمات بند ہو گئی تھیں اور کئی کمپنیوں نے آرڈر کینسل کر دیے تھے۔ ایسے وقت میں ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا اِس بزنس کو زندہ رکھنا، ٹیم کی حفاظت کرنا اور ان کے حوصلوں کو برقرار رکھنا۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’کورونا کے دوران سبھی پریشان تھے۔ اسپتالوں میں بھیڑ کی وجہ سے لوگ گھروں میں رہ کر علاج کرانے کو مجبور تھے۔ ان حالات کو دیکھ کر ہم نے چین سے ضروری طبی آلات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس قدم نے کمپنی کو تو فائدہ پہنچایا ہی، عام لوگوں اور چھوٹے اسپتالوں تک طبی آلات پہنچنے سے کئی طرح کی راحتیں میسر ہوئیں۔‘‘


بہر حال، اب کورونا وبا کا دور گزر چکا ہے اور ’سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ دواؤں کی برآمدات کے لیے نئی راہیں تلاش کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ آگے بڑھنے کی اس کوشش میں عقیل احمد اپنے ملازمین کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ملازمین ہی ہماری طاقت ہیں، اس لیے ہمیشہ ہم نے خوشگوار ماحول فراہم کیا۔ تہواروں پر ہم نے مشترکہ انداز میں خوشیاں بانٹی ہیں اور وَرک لائف بیلنس کا بھی خاص خیال رکھا ہے۔ یہ ہماری کمپنی کی خصوصیات میں شامل ہے۔ ہم بلاجھجک کہہ سکتے ہیں کہ ’سیکریڈ لیوس‘ صرف بزنس کرنے والی کمپنی کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ثقافت ہے، ایک ٹیم ہے اور ایک مشن ہے۔‘‘

ہم ہیں کامیاب-1: سیکریڈ لیوس پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک کمپنی جس کو قائم کرنے کے لیے دینی پڑی ’خواب کی قربانی‘

عقیل احمد اپنے مشن پر آگے بڑھ رہے ہیں اور اس مشن کے دوران ہندوستان سے لے کر روس تک جو بھی رشتے بنے ہیں، انھیں بہتر انداز میں نبھا بھی رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقیل احمد کا روس سے رشتہ اب صرف ’روسی زبان‘ اور ’دواؤں‘ تک محدود نہیں ہے، بلکہ انھوں نے شادی بھی روسی خاتون سے کر لی ہے، جن کا نام ہے لولو احمد۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔