
موندرا پورٹ، تصویر آئی اے این ایس
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارتی راستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والی سپلائی چین سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا براہ راست اثر اب ہندوستان کے مغربی ساحلی تجارتی راہداریوں پر محسوس ہونے لگا ہے۔ جے این پی ٹی (نوی ممبئی) اور موندرا پورٹ (گجرات) پر لاجسٹک جام سنگین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
Published: undefined
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بڑی شپنگ کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ کے لمبے راستے کی طرف موڑ دیا ہے۔ نتیجے کے طور پر ہزاروں کنٹینرز جن میں اعلیٰ قیمت کی زرعی اور صنعتی مصنوعات لدی ہیں، ہندوستانی بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں۔ اس کا اثر گھریلو منڈیوں، خاص طور پر واشی اے پی ایم سی میں 'ریورس فلو بحران' کے طور پرظاہر ہو رہا ہے جہاں برآمد کے لیے مقرر کردہ سامان مارکیٹ میں واپس کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ہندوستان سے مشرق وسطیٰ جانے والے کارگوز میں زرعی مصنوعات سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ اس وقت بندرگاہوں اور ٹرانزٹ میں بھاری مقدار میں برآمدات پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں باسمتی چاول 4 لاکھ ٹن ( 2 لاکھ ٹن ہندوستانی بندرگاہوں پر، 2 لاکھ ٹن ٹرانزٹ میں پھنسا ہوا ہے۔ وہیں تازہ انگور5 سے 6 ٹن (300+ کنٹینرز)، پیاز5,400 ٹن (150 سے 200 کنٹینر، بنیادی طور پر ناسک سے)، کیلا اور انار 1,000+ ریفر یونٹس میں سینکڑوں ٹن، فروزن بفیلو گوشت 300+ پوریشیبل کنٹینرز میں بڑی مقدار میں پھنسا ہوا ہے۔
Published: undefined
برآمدات کے ساتھ ساتھ درآمدی صنعتی اور ضروری مصنوعات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ جیسے سلفر اور جپسم 3 لاکھ ٹن کی ترسیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ خشک میوہ جات اور کھجوریں 600 سے 700 کنٹینرز بندر عباس جیسے مراکز پر پھنسے ہوئے ہیں۔ وہیں ایل پی جی کے 5 بڑے جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا یا ملتوی کر دیا گیا ہے۔
Published: undefined
مشرق وسطیٰ کی برآمدات پر پابندی سے کسانوں اور تاجروں کو دوگنا نقصان پہنچا ہے۔ واشی اے پی ایم سی میں کیلا کی قیمتیں 25 روپے فی کلو سے کم ہو کر 15 روپے فی کلو ہو گئی ہیں۔ برآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ میں ذیادہ ذخیرہ پہنچا۔ برآمد کنندگان کو جے این پی ٹی پر فی کنٹینر 8 ہزار500 روپئے یومیہ بجلی (پلگ ان) اور اسٹوریج چارجز کے طور پر دینا پڑرہا ہے۔ جے این پی ٹی پر 5 ہزار سے زیادہ کنٹینر گراؤنڈیڈ، پارکنگ پلازہ اور ٹرمینل بھرے ہوئے ہیں۔
Published: undefined
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی جنگ نے ہندوستان کی سپلائی چین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کا زرعی برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کی حفاظت اور ملکی قیمتوں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس اندیشے کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی بازوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined