’مودی فیملی‘ میں نئی نسل کی بغاوت... جے دیپ ہاردیکر

مودی حامی کنبوں اور دایاں محاذ ایکو سسٹم کے اندر سے اٹھی نوجوانوں کی یہ بغاوت بتاتی ہے کہ نئی نسل بزرگوں کی دکھائی راہ منتخب نہیں کر رہی۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر سننے کے بعد جشن مناتا ہوا جین-زی طبقہ، تصویر ویپن/قومی آواز</p></div>
i

جین-زی کے جنتر منتر کے احتجاجی مظاہرے میں کئی تصاویر توجہ کھینچنے والی تھیں۔ ایسی ہی ایک تصویر ماسک پہنے مظاہرین کی تھی۔ ان کی تعداد خاصی زیادہ تھی۔ لیکن انہوں نے ماسک کیوں پہن رکھے تھے؟ کیا وہ پولیس سے بچنے کے لیے ایسا کر رہے تھے؟ نہیں، وہ اپنے ہی خاندانوں سے چھپ رہے تھے۔ یہ بات 20 جولائی کے مارچ کے بعد خاص طور پر کھل کر سامنے آئی، جب ان پر پولیس اور حکومت کی جانب سے اتاری گئی فوج کے ذریعے کیل لگی لاٹھیوں، شاک بیٹن، آنسو گیس اور پیلiٹ گن سے حملہ کیا گیا۔

بہار کے ایک 21 سالہ طالب علم نے بتایا کہ اس نے والدین کو احتجاج میں شامل ہونے کی اطلاع نہیں دی تھی کیونکہ وہ کٹر بی جے پی حامی ہیں، لیکن اسے آنا پڑا کیونکہ اس کے ساتھی اسی کے حق کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ایک اور طالب علم نے ماسک اس لیے پہنا تھا کیونکہ اسے ’ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا پر شناخت کیے جانے کا خوف‘ تھا۔ تیسرے طالب علم نے تو صاف کہا کہ اس کے والدین کے سیاسی رجحان کی وجہ سے ہی اسے سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ ظاہر ہے بڑی تعداد ایسے مظاہرین کی تھی جن کا پہلا ٹکراؤ حکمرانی اور اقتدار سے نہیں، اپنے ماں باپ سے تھا۔


حال ہی میں ایک انٹرویو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا نے ’موجو اسٹوری‘ کے لیے برکھا دت سے بات چیت میں بتایا کہ ان کی سیاست ان کے والدین کے خیالات سے بالکل متضاد ہے۔ وہ بائیں بازو کی ہیں، جبکہ والدین دائیں بازو کے۔ ان کے لیے بھی پہلا سیاسی ٹکراؤ گھر کے اندر ہی ہوا۔

بغاوت کی ایسی ہی آوازیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی سنائی دیں۔ ایسی گونج ان گوشوں سے بھی آئی جن کے بارے میں سوچنا بھی مشکل تھا۔ اسی تحریک کی وجہ سے استعفیٰ دینے والے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی بیٹی نے جین-زی تحریک کی کھل کر حمایت کر کے اپنے والدین کو تذبذب میں ڈال دیا۔ انہوں نے میڈیا انٹرویوز میں اعلانیہ طور پر اپنے والدین کی سیاست سے الگ راہ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ بی جے پی کی سابق طلبا لیڈر امنگ گپتا نے کہا کہ ان کا خاندان بھی مودی حامی رہا ہے اور انہوں نے اپنے والدین کی خواہش کے خلاف جا کر اس احتجاج میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی طرح کئی نوجوانوں نے احتجاج کا حصہ بننے کے لیے اپنے خاندانوں سے بغاوت کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’’انہیں پیٹا جا رہا ہے، انہیں دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔‘‘


تقریباً 2 ہفتوں سے جین-زی کے مظاہروں سے متعلق بیشتر بحث نعرے بازی، میمز اور مودی حکومت کو اس سے ہونے والے ممکنہ نقصان پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن شاید اس سے بھی زیادہ دلچسپ کہانی گھروں کے اندر، رات کے کھانے کی میزوں پر، خاندانی واٹس ایپ گروپس میں اور دائیں بازو کے اس وسیع تر سماجی دائرے میں تشکیل پا رہی ہے جس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بی جے پی کے سیاسی عروج کو ہوا دی اور عوامی پیغامات پر اس کی گرفت برقرار رکھنے میں مدد کی۔

بی جے پی کے سوشل الائنس (خاندانوں، محلوں، آر ایس ایس شاخوں، واٹس ایپ گروپس، مندروں، کاروباری نیٹ ورکس اور سابق اسٹوڈنٹس گروپس) کے اندر 2 نسلوں کے درمیان دراڑ کے ابتدائی اشارے اب واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ برسوں تک سیاسی نظریے کا بہاؤ والدین سے بچوں کی طرف ہوتا تھا، لیکن جین-زی کے اس احتجاج نے اس پرانے تصور کی مدت ختم کر دی ہے۔ بغاوت کے ان ذاتی واقعات یا اس ابھرتے ہوئے رجحان کو بی جے پی کے خاتمے کی ابتدا یا اس کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ سیاسی پارٹیاں بحرانوں اور اندرونی اختلافات کے ادوار سے ابھرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سماجی اتحاد کے اس مضبوط حصار میں دراڑ ضرور آ گئی ہے، کیونکہ اب سمجھدار نوجوان اپنے گھر کے بزرگوں سے سیکھنے کے بجائے اس ڈیجیٹل دنیا سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جو انہیں اپنی ’انٹرنیٹ فیملی‘ جیسی محسوس ہوتی ہے۔


بی جے پی کے اندر بھی اندرونی سرگوشیاں شروع ہو گئی ہیں۔ اگرچہ کچھ اراکین پارلیمنٹ نے عوامی طور پر یہ تسلیم کرنے کی ہمت دکھائی ہے کہ ’اس بدنظمی سے بچا جا سکتا تھا‘، لیکن وہ غیر رسمی گفتگو میں اس سے کہیں زیادہ بات کر رہے ہیں۔ کئی کا ماننا ہے کہ طلبا کو جواب دینے میں ہوئی تاخیر نے حکومت کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن وہ انتخابی نتائج پر اس کے کسی طویل مدتی اثر کو لے کر بے فکر ہونے کا دکھاوا بھی کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر، راج ناتھ سنگھ اور نتن گڈکری جیسے پارٹی کے سینئر لیڈران نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آئے، جو وحشیانہ پولیس کارروائی کے باعث اپوزیشن کے براہ راست نشانے پر رہے ہیں۔

نسلوں کے درمیان کی یہ کہانی صرف دوری کی نہیں ہے۔ مثلاً، ممبئی میں کئی والدین اپنے بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اس تحریک کی حمایت میں سڑکوں پر اترے۔ مختلف خاندانوں نے ایک ہی سیاسی واقعات پر الگ الگ انداز میں ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس لیے کسی نتیجے پر پہنچنا عجلت ہوگی۔ کچھ نوجوانوں کا اپنے والدین سے بحث کرنا یا کچھ حامیوں کا محض بے چینی کا اظہار کرنا سیاسی پارٹیوں کو منتشر نہیں کرتا۔ نہ ہی یہ منتشر مثالیں کسی وسیع تر نظریاتی تبدیلی کا حتمی ثبوت ہیں۔ پھر بھی، یہ جھلکیاں خاص توجہ کی مستحق ہیں کیونکہ یہ ان جگہوں سے ابھر کر آ رہی ہیں جنہیں سیاسی رپورٹنگ اکثر نظرانداز کر دیتی ہے اور ہماری مین اسٹریم میڈیا یقیناً دبا دیتی ہے۔ انتخابات ہمیں بتاتے ہیں کہ لوگ کیسے ووٹ دیتے ہیں اور احتجاج ہمیں بتاتے ہیں کہ کون لوگوں کو متحد کر رہا ہے۔ لیکن خاندان ہمیں بتاتے ہیں کہ سیاسی عقائد نسلوں کے درمیان کیسے آگے بڑھتے ہیں، کیسے محفوظ رکھے جاتے ہیں، کیسے انہیں چیلنج کیا جاتا ہے اور کیسے ان پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔


گزشتہ ایک دہائی کے دوران بی جے پی نے اس غیر معمولی سماجی حمایت سے فائدہ اٹھایا جو صرف پارٹی کی رکنیت تک محدود نہیں تھی۔ معاشرے پر اس کی گرفت (خاص طور پر ’ہندی پٹی‘ میں) رہائشی فلاحی انجمنوں، محلہ گروپوں، ہندو مذہبی نیٹورکس، پیشہ ورانہ تنظیموں اور خاندانی اکائیوں کے ذریعے قائم رہی۔

حکومت پر منحصر اور اس کے لیے وقف میڈیا کے ذریعے تشکیل دیے گئے بیانیے نے پارٹی کی ناقابل شکست شبیہ پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ احتجاجی مقامات سے نکالے جانے اور تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود میڈیا کا بڑا حصہ مسلسل حکومت کے ناقدین ہی کو گھیرنے میں مصروف ہے۔ اگرچہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ اسمارٹ فون کے دور سے آگے کی اس نوجوان نسل کی سیاسی آواز اب ذات، طبقے، مذہب اور پرانی سیاسی حدود سے ماورا اٹھ رہی ہے۔ یہ تکنیکی طور پر باہم جڑے نوجوانوں کا ایسا گروہ ہے جسے ماہرین عمرانیات اب ’ڈیجیٹل پبلک‘ کہنے لگے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر پلی بڑھی یہ نسل تعلیم، روزگار اور اپنی شناخت سے وابستہ حقیقی تشویشوں میں مشترکہ بنیاد تلاش کر رہی ہے۔ یہ ان کے والدین یا دادا دادی سے مختلف ہے، جنہوں نے موجودہ حکومت کو شاید اس لیے کھلی چھوٹ دے رکھی تھی کیونکہ اس نے انہیں نفرت کرنے کے لیے ایک خیالی دشمن دے دیا تھا۔


اس وقت یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ بی جے پی کے اپنے مضبوط قلعوں میں سامنے آنے والی اس پہلی حقیقی سماجی مزاحمت کا مستقبل کیا ہوگا۔ کیا یہ نوجوان مظاہرین اور اپوزیشن میں ان کے حامی دیگر متاثرہ طبقات (جیسے غیر مطمئن کسانوں، صنعتی مزدوروں اور بے گھر کیے گئے قبائلیوں) کے ساتھ مل کر کوئی بڑا سماجی تانا بانا بُن پائیں گے؟ کیا سڑک کی اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر کی اپوزیشن کے ساتھ تال میل قائم کر پائے گی؟ ہم نہیں جانتے۔ لیکن یاد رکھیں، سیاسی تبدیلی جب آتی ہے تو وہ ڈھول تاشوں کے ساتھ نہیں آتی۔ وہ اکثر خاموشی سے شروع ہوتی ہے... یعنی جب اٹل یقین کی جگہ شکوک کی چادر پھیل جائے، جب رٹے رٹائے جوابوں پر سوال اٹھنے لگیں اور جب خاندانوں کو یہ احساس ہو کہ جس سیاسی اتفاق رائے کو وہ کبھی حتمی سمجھتے تھے، اس میں اب شگاف پیدا ہو چکا ہے۔

(مضمون نگار جے دیپ ہاردیکر سینئر صحافی اور مصنف ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔