امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ پر کانگریس کا اظہارِ تشویش، مشرق وسطیٰ میں موجود ہندوستانیوں کو لے کر فکرمند
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہر ہندوستانی شہری کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ حکومت ہند سے اپیل ہے کہ وہ اپنے عوام کو تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی نے دنیا میں ایک نئی جنگ شروع کر دی ہے۔ اس جنگ نے مزید شدت تب اختیار کر لی جب حیرت انگیز طور پر ایرانی فوری جوابی حملہ کر دیا۔ ایران نے نہ صرف اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی، بلکہ سعودی، قطر، یو اے ای سمیت تقریباً 7 خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے، جو خوف و دہشت میں مبتلا ہیں۔ ان مشکل حالات میں کانگریس نے ہندوستانی شہریوں کے تئیں اپنی فکر کا اظہار کیا ہے۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نہایت تشویش ناک ہے۔ مشرق وسطیٰ میں موجود ہر ہندوستانی شہری کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔‘‘ انھوں نے ہندوستانی شہریوں کی مدد کے لیے حکومت ہند سے اپیل بھی کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں حکومت ہند سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اور پیشگی اقدامات کرے۔‘‘
کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے بھی خلیجی ممالک میں شروع ہوئی جنگ پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ ’’کئی ہفتوں تک امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کا ڈھونگ رچائے رکھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکہ کے جنگ پسند حلقوں کی حوصلہ افزائی پر انھوں نے اقتدار کی تبدیلی کے مقصد سے ایک فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ کانگریس اس حملہ کی سخت مذمت کرتی ہے۔‘‘
جئے رام رمیش نے حکومت سے گزارش کی ہے کہ وہ شروع ہوئی اس جنگ کو ختم کرنے میں اپنی مداخلت کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’کانگریس حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر ان محاذ آرائیوں کے خاتمہ میں مدد کرے۔ حکومت ہند کو مغربی ایشیا کے خطے میں رہنے اور کام کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘
ایک دیگر سینئر کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزارت خارجہ سے ہندوستانی شہریوں کی مدد سے متعلق اپیل کی ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’ایران میں اسرائیل-امریکہ کی حالیہ مشترکہ فوجی کارروائی اور پورے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ہندوستانی شہریوں میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ خطے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی، جن میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں،رہائش پذیر اور برسر روزگار ہیں۔ اس پُرآشوب دور میں میں وزیر اعظم اور وزارت خارجہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہندوستانی شہریوں کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری سفارتی و انتظامی اقدامات کریں۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’جو ہندوستانی شہری سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، یا جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے محفوظ راستے اور انخلا کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے فوری اقدامات کیے جائیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔