آبنائے ہرمز بحران پر ایران اور جرمنی میں گفتگو، عراقچی نے امریکہ و اسرائیل کو ٹھہرایا ذمہ دار
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جرمن ہم منصب سے گفتگو میں آبنائے ہرمز کے بحران کے لیے امریکہ و اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو ذمہ دار قرار دیا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا

یران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان وادے فُل نے فون پر بات چیت کے دوران علاقائی صورت حال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران عراقچی نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور عدم تحفظ کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو ذمہ دار قرار دیا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (آئی آر این اے) کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے اور دنیا کی موجودہ صورت حال پر بھی گفتگو کی۔ عراقچی نے جرمن ہم منصب کو عمان کے ساتھ جاری بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
عراقچی کے مطابق، عمان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک محفوظ راستہ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم سمندری راستے میں پیدا ہونے والی عدم تحفظ کی صورت حال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی اور اقتصادی اثرات کے لیے امریکی انتظامیہ کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں سلامتی کی بحالی کے لیے امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں اور مبینہ غیر قانونی مداخلت کو ختم کرنا ضروری ہے۔
عراقچی نے سمندری ناکہ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی یادداشت کے تحت امریکہ کی مبینہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، آبنائے ہرمز میں معمول کی صورت حال بحال کرنے کے لیے ان اقدامات کا خاتمہ ضروری ہے جن سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
بات چیت کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مختلف سطحوں پر سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔ جرمنی سمیت بعض ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستے تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اس سے قبل عباس عراقچی واضح کر چکے ہیں کہ فی الوقت ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ تاہم، ان کے مطابق کچھ ثالث اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرانے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کر سکتا جب تک واشنگٹن مبینہ طور پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند نہیں کرتا اور ماضی میں کی گئی خلاف ورزیوں کی تلافی نہیں کرتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
