’کیرالہ‘ کا نام باضابطہ طور پر ’کیرلم‘ کرنے کا بل لوک سبھا سے منظور
کیرالہ اسمبلی نے 24 جون 2024 کو کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کی تجویز پاس کی تھی۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ ’’ملیالم زبان میں ہماری ریاست کا نام کیرلم ہے۔‘‘

لوک سبھا میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی مسلسل نعرے بازی کے درمیان منگل (11 اگست) کو کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل، 2026‘ کو صوتی ووٹ سے پاس کر دیا گیا۔ اس بل میں ریاستِ کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کی تجویز ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانند رائے نے ایوان میں یہ بل پیش کیا، جبکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ 20 جولائی کو طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی اور بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرتے رہے۔
ایوان کی صدارت کر رہے کرشنا پرساد ٹینیٹی نے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو ایوان کو بہتر طور پر چلنے دینے کی اپیل کی۔ حالانکہ ہنگامہ جاری رہا۔ نتیانند رائے اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کیرالہ کا نام بدلنے والے بل پر بحث نہ کرنے پر اپوزیشن کو ہدف تنقید بنایا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل فروری میں وزری اعظم نریند مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ’کیرالہ‘ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔ غور طلب ہے کہ کیرالہ اسمبلی نے 24 جون 2024 کو کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرلم‘ کی تجویز پاس کی تھی۔ اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ ’’ملیالم زبان میں ہماری ریاست کا نام کیرلم ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ منظور شدہ تجویز میں کہا گیا تھا کہ یکم نومبر 1956 کو زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل کی گئی تھی۔ یکم نومبر کو ’کیرالہ پیروی دیوس‘ بھی منایا جاتا ہے۔ ملک کی جنگ آزادی کے وقت سے ہی ملیالم زبان بولے والے لوگوں کے لیے ’متحدہ کیرالہ‘ کی تشکیل کا پرزور مطالبہ رہا ہے۔ حالانکہ آئین کے پہلے شیڈول میں ہماری ریاست کا نام کیرالہ درج ہے۔ کیرالہ اسمبلی متفقہ طور پر مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت نام بدل کر ’کیرلم‘ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
