شام میں خفیہ طور پر زمین کے اندر دفن ہے ’جوہری مواد‘، اب ہٹانے کی چل رہی تیاری

اسد حکومت نے ’الکِبر‘ میں ایک مبینہ خفیہ جوہری ری ایکٹر بنایا تھا۔ 2007 میں اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے اس سائٹ کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی جوہری پروگرام سے جڑا کچھ مواد دوسری جگہوں پر موجود رہا

<div class="paragraphs"><p>شام کے صدر احمد الشرع / تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ</p></div>
i

شام میں سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں چلائے گئے خفیہ جوہری پروگرام سے منسلک کچھ ’جوہری مواد‘ ایک خفیہ جگہ پر زمین کے اندر دبا ہوا ہے۔ اب اسے وہاں سے ہٹانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور شام کے درمیان کئی مہینوں تک ہوئی بات چیت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی یعنی ’آئی اے ای اے‘ جلد ہی اس مواد کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کا کام شروع کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ 2 سال سے شام کی ایک جگہ پر نظر رکھ رہا تھا۔ اسے ’سائٹ 99‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی افسران کے مطابق اسد حکومت نے یہاں ’الکِبر‘ جوہری منصوبہ سے جڑے کچھ مواد چھپا کر رکھے تھے۔ اس مواد میں ’یلوکیک‘ بھی شامل ہے۔ یہ یورینیم سے تیار کیا گیا ایک پاؤڈر ہوتا ہے، جس کا استعمال آگے چل کر جوہری ایندھن بنانے میں کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ افسران کا کہنا ہے کہ ’سائٹ 99‘ میں موجود مواد سے براہ راست جوہری ہتھیار بنانا ممکن نہیں ہے۔


مذکورہ معاملہ شام کے پرانے خفیہ جوہری پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ اسد حکومت نے ’الکِبر‘ میں ایک مبینہ خفیہ جوہری ری ایکٹر بنایا تھا۔ 2007 میں اسرائیل نے فضائی حملہ کر کے اس سائٹ کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی جوہری پروگرام سے جڑا کچھ مواد دوسری جگہوں پر موجود رہا۔ بعد میں آئی اے ای اے کی تحقیقات میں شام میں یورینیم کے ذرات بھی ملے تھے۔ ان ذرات کو لے کر طویل عرصے تک سوال اٹھتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو ڈر تھا کہ شام کی نئی حکومت یا کوئی دوسرا گروپ ’سائٹ 99‘ میں رکھے مواد تک پہنچ سکتا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کو بتایا تھا کہ وہ اس جوہری مواد کو وہاں نہیں رہنے دے گا۔ اسرائیل نے ضرورت پڑنے پر سائٹ پر دوبارہ حملہ کرنے کی وارننگ بھی دی تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے اسرائیل سے فوجی کارروائی نہ کرنے کو کہا اور اس معاملے میں آئی اے ای اے کو شامل کیا گیا۔


قابل ذکر ہے کہ تقریباً 3 ہفتے قبل آئی اے ای اے اور شام کی نئی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت ’سائٹ 99‘ میں موجود جوہری مواد کو وہاں سے ہٹایا جائے گا۔ ابھی مواد کو ہٹایا نہیں گیا ہے اور اس کی تیاری چل رہی ہے۔ امریکی افسران کو امید ہے کہ جلد ہی یہ عمل شروع ہو جائے گا اور رواں سال کے آخر تک اسے مکمل کیا جا سکتا ہے۔