
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے 29 جنوری کو آوارہ کتوں کے معاملے میں سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ سپریم کورٹ آوارہ کتوں سے متعلق اپنے پہلے کے احکامات میں ترمیم کی درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے امیکس کیوری گورو اگروال کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ گورو اگروال نے بنچ کے سامنے پنجاب، تمل ناڈو، اترپردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی مختصر تفصیل پیش کی۔
Published: undefined
’پی ٹی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے بھی 7 نومبر 2025 کے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل سے متعلق اپنے دلائل پیش کیے۔ اس حکم میں عدالت نے این ایچ اے آئی کو قومی شاہراہوں سے آوارہ جانوروں کو ہٹانے اور سڑکوں کے کناڑے باڑ لگانے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا (اے ڈبلیو بی آئی) کو شیلٹر ہوم یا جانوروں کی پیدائش پر قابو پانے کی سہولیات کے لیے اجازت طلب کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی درخواستوں پر کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
Published: undefined
عدالت نے اے ڈبلیو بی آئی کے وکیل سے کہا کہ ’’خواہ آپ درخواست قبول کریں یا نہ کریں، لیکن جو بھی کرنا ہے وہ جلدی کریں۔‘‘ سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ وکیل کی اس دلیل پر کی جس میں انہوں نے کہا کہ 7 نومبر کے حکم کے بعد مختلف تنظیموں کی جانب سے ایسی درخواستوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین سے معاملے میں جلد از جلد اپنے تحریری دلائل داخل کرنے کو کہا۔ عدالت نے بدھ کو ریاستی حکومتوں کی طرف سے آوارہ کتوں کی نس بندی کی شرح میں اضافہ کرنے کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’یہ سب ہوا میں قلعے بنا رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ عدالت 7 نومبر 2025 کے اس حکم میں ترمیم کی گزارش کرنے والی کئی درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی، جس میں افسران کو ادارہ جاتی علاقوں اور سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے 13 جنوری کو کہا تھا کہ ریاستوں سے کتے کے کاٹنے کے واقعات کے لیے بھاری معاوضہ ادا کرنے کو کہے گا اور ایسے معاملوں کے لیے کتوں کو کھانا کھلانے والوں کو جوابدہ ٹھہرائے گا۔ عدالت نے گزشتہ 5 سالوں سے آوارہ جانوروں سے متعلق اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined