ٹرمپ کی دھمکی پر ایران برہم، امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو نشانہ بنانے کا انتباہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حملے کی صورت میں اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔ جوہری معاہدے پر تعطل کے باعث دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے سے متعلق جاری کشیدگی ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کو محدود کرنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی سطح کی بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، جس کے بعد دونوں ممالک کے بیانات میں سختی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی قیادت نے بھی دو ٹوک انداز میں ردِعمل دیا ہے۔
ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک سینئر مشیر نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔
اسی دوران ایران کے اندر حالیہ دنوں میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت اور پرتشدد کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کو سخت لہجے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے رویہ نہ بدلا تو امریکی حملہ گزشتہ گرمیوں میں کیے گئے حملے سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔ ان کے مطابق 2025 میں امریکی فوج نے ایران کے تین جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، جن میں کئی ایرانی سائنس داں مارے گئے تھے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں کا ایک بڑا بیڑا ایران کی سمت بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ معاہدہ کرے، کیونکہ جوہری ہتھیار کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے اور اگر ایران نے اب بھی معاہدہ نہ کیا تو نتائج مزید بھیانک ہو سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن ایران کی اعلیٰ قیادت، سکیورٹی حکام، جوہری تنصیبات اور سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے کے مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے اب تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے۔