’راجستھان ہائی کورٹ کے 2 جج بھی کتوں کا شکار ہوئے‘، آوارہ کتوں کے معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا ردعمل

عدالت نے کہا کہ ’’سڑک پر آوارہ جانوروں کی موجودگی کے سبب گزشتہ 20 دنوں میں راجستھان ہائی کورٹ کے 2 جج حادثہ کا شکار ہوئے ہیں، ایک جج اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ میں مبتلا ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے بدھ (7 جنوری) کو آوارہ کتوں کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان ہائی کورٹ کے 2 جج حادثہ کا شکار ہوئے ہیں اور ایک جج اب بھی ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ میں مبتلا ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے یہ کہتے ہوئے سماعت شروع کی کہ ’’آج ہم سب کو وقت دیں گے۔ کسی کو شکایت نہ رہے کہ اسے نہیں سنا گیا۔ پہلے متاثرین کو سنیں گے پھر ’ڈاگ لورز‘ کو۔‘‘

عدالت نے کہا کہ سڑک پر آوارہ جانوروں کی موجودگی کے سبب گزشتہ 20 دنوں میں راجستھان ہائی کورٹ کے 2 جج حادثہ کا شکار ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 7  نومبر کو تعلیمی اداروں، ریلوے اسٹیشن اور اسپتالوں جیسے عوامی جگہوں پر کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ساتھ ہی حکم دیا تھا کہ کتوں کو فوری طور پر مناسب نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد مخصوص پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پکڑے گئے آوارہ کتوں کو اس جگہ پر واپس نہیں چھوڑا جائے گا جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔


بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ریاستی شاہراہوں، قومی شاہراہوں اور ایکسپریس وے سے تمام مویشویوں اور دیگر آوارہ جانوروں کو ہٹانے کا حکم بھی دیا تھا۔ آج کی سماعت میں امیکس کیوری گورو اگروال نے اس معاملہ میں رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے عدالت میں کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کو اسپیشل آپریشنز (ایس او پی) تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور انہوں نے ایس او پی تیار کر لی ہے۔ گورو اگروال نے بتایا کہ این ایچ اے آئی کا کہنا ہے کہ 1400 کلومیٹر کا ایک حساس علاقہ ہے، جس کی دیکھ بھال ریاستی حکومت کو کرنی ہوگی۔

گورو اگروال نے مزید بتایا کہ حکم نامے کے مطابق مویشیوں اور آوارہ کتوں کو شیلٹر میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے لیے انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اینیمل ویلفیئر بورڈ (اے ڈبلیو بی) کا کہنا ہے کہ نر کتوں کی پہلے نس بندی کی جائے تاکہ افزائشِ نسل کو روکا جا سکے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اینیمل برتھ کنٹرول سنٹر‘ میں بھی افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔ ریاستوں کو بھی حلف نامے داخل کرنے تھے اور اب تک 10 حلف نامے موصول ہوئے ہیں۔ عدالت نے اس پر پوچھا کہ کن ریاستوں نے حلف نامے داخل نہیں کیے ہیں، ایمیکس کیوری نے بتایا کہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک اور پنجاب جیسی بڑی ریاستوں نے داخل نہیں کیے ہیں، ساتھ ہی سکم جیسی چھوٹی ریاستیں بھی ان میں شامل ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔