قومی خبریں

ہنتا وائرس سے متاثرہ کروز شپ پر عالمی الرٹ، کئی ممالک نے مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا

ہنتا وائرس سے متاثرہ ڈچ کروز شپ ایم وی ہونڈیئس پر تین اموات کے بعد امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور اسپین نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے، جبکہ مسافروں کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

ہنتا وائرس سے متاثرہ ڈچ کروز شپ ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر تین اموات کے بعد کئی ممالک نے ہنگامی طبی اور حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ مختلف ملکوں کے مسافروں اور عملے کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور متعدد حکومتیں اپنے شہریوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے مطابق چار جرمن مسافروں کو بحفاظت نکال کر نیدرلینڈ کے راستے جرمنی پہنچایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک مسافر کو برلن کے ایک اسپتال میں داخل کیا جائے گا، جبکہ دیگر افراد کو ان کے آبائی علاقوں میں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ ایک 65 سالہ جرمن خاتون پہلے ہی اسپتال میں زیر علاج ہیں کیونکہ وہ اس مسافر کے رابطے میں آئی تھیں جس کی وائرس سے موت ہوئی تھی۔

Published: undefined

امریکہ نے بھی صورتحال کے پیش نظر خصوصی ایئر لفٹ آپریشن شروع کیا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق جہاز پر موجود ایک امریکی شہری میں ہنتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ایک اور شخص میں ہلکی علامات پائی گئی ہیں۔ تمام 17 امریکی شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ اور مشتبہ مریضوں کو بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا گیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

برطانیہ نے بھی جہاز سے نکالے گئے 20 شہریوں کو شمال مغربی انگلینڈ کے ایک اسپتال میں الگ تھلگ رکھا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کو 72 گھنٹے طبی نگرانی میں رکھنے کے بعد مزید 42 دن تک خود کو قرنطینہ میں رکھنا ہوگا۔ برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جہاز سے واپس آنے والے تمام مسافروں اور عملے کی مجموعی طور پر 45 دن تک نگرانی کی جائے گی۔

Published: undefined

اسپین میں بھی بڑے پیمانے پر نکاسی کا عمل جاری ہے۔ اسپین کے حکام کے مطابق مختلف ممالک کے 90 سے زائد مسافروں اور عملے کو بحفاظت نکالنے کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ کروز شپ کو کینری جزائر کے ساحل کے قریب روک دیا گیا تھا تاکہ صحت سے متعلق تمام پروٹوکول پر عمل کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا اور نیدرلینڈ بھی اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی پروازیں بھیج رہے ہیں۔

دریں اثنا شمالی کوریا نے بھی اس وائرس کے خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سرکاری اخبار نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے صفائی برقرار رکھنے اور چوہوں جیسے جانوروں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ردعمل کووڈ وبا کے دوران شمالی کوریا کی سخت پالیسیوں کی یاد دلاتا ہے، جب اس نے اپنی سرحدیں برسوں تک بند رکھی تھیں۔

Published: undefined

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہنتا وائرس عموماً چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ وائرس متاثرہ جانوروں کے پیشاب، لعاب یا فضلے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بند اور کم ہوادار جگہوں کی صفائی، کھیتوں یا جنگلات میں کام کرنا اور چوہوں سے متاثرہ مقامات پر رہنا انفیکشن کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، لیکن بروقت طبی نگرانی اور فوری علاج سے مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ امریکی سی ڈی سی کے مطابق وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں ایک سے آٹھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں اس کی شرح اموات ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined