ڈبلیو ایچ او نے ہنتا وائرس سے متاثرہ جہاز پر سوار تمام افراد کو ’انتہائی خطرے والا رابطہ کار‘ قرار دیا

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ’ہنتا‘ وائرس کی ابتدائی علامات میں سردرد، چکر آنا، کپکپی طاری ہونا، بخار، پٹھوں میں درد اور پیٹ کے مسائل شامل ہیں۔ ان میں متلی، الٹی، دست اور پیٹ درد جیسی تکلیفیں ہو سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جس کروز جہاز پر ہنتا وائرس پھیلنے کا معاملہ سامنے آیا ہے، اس میں سوار تمام افراد کو ’انتہائی خطرے والا رابطہ کار‘ (ہائی رسک کانٹیکٹ) سمجھا جانا چاہیے۔ اس لیے ان تمام لوگوں کی 42 دنوں تک مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔ ڈبلیو ایچ او میں وبائی امراض اور روک تھام کے شعبے کی ڈائریکٹر ماریا وان کرخوف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جہاز پر موجود ہر فرد کو ’ہائی رسک کانٹیکٹ‘ مانا جا رہا ہے۔

ماریا وان کرخوف کے مطابق فی الحال جہاز پر کسی میں بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود جہاز سے اترنے والے تمام مسافروں اور عملے کی 42 دنوں تک نگرانی اور طبی معائنہ ضروری ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عام لوگوں اور اسپین کے کینری آئی لینڈز کے باشندوں کے لیے خطرہ فی الحال کم ہے۔ یہ جہاز اتوار کو وہاں پہنچنے والا ہے۔


ہفتہ (9 مئی) کو ڈبلیو ایچ او کے ’ڈزیز آؤٹ بریک نیوز‘ اپ ڈیٹ کے مطابق اس کروز جہاز پر 2 مئی کو پہلی بار سانس کی شدید بیماری کے کیسز سامنے آئے تھے۔ اس وقت جہاز پر 147 مسافر اور عملہ موجود تھا، جبکہ 34 افراد پہلے ہی جہاز سے اتر چکے تھے۔ ’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ ممالک میں ڈبلیو ایچ او کے تمام رابطہ پوائنٹس کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ تمام ممالک مل کر ان لوگوں کا پتہ لگانے اور ان کی جانچ کرنے کا کام کر رہے ہیں، جو متاثرہ افراد کے رابطے میں آئے ہوں گے۔

واضح رہے کہ 8 مئی تک کل 8 افراد میں بیماری کی علامات پائی گئی ہیں۔ ان میں سے 3 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ 6 معاملات میں جانچ کے بعد اینڈیز وائرس (اے این ڈی وی) ہنتا وائرس انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے متعلقہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ آپسی تال میل برقرار رکھیں اور متاثرہ افراد کی شناخت، علاج، انفیکشن روکنے کے اقدامات اور لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کا کام جاری رکھیں۔


ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہنتا وائرس انفیکشن کی ابتدائی علامات میں سردرد، چکر آنا، کپکپی طاری ہونا، بخار، پٹھوں میں درد اور پیٹ کے مسائل شامل ہیں۔ ان میں متلی، الٹی، دست اور پیٹ درد جیسی تکلیفیں ہو سکتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی کہا کہ پہلے کے کچھ معاملات میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی انفیکشن پھیلنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کم خطرے والے لوگوں کو بھی اپنی صحت پر نظر رکھنے، ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے معائنہ کروانے اور علامات ظاہر ہونے پر ماسک پہننے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔