جھارکھنڈ کے سابق وزیر عالمگیر عالم کو بڑی راحت، سپریم کورٹ سے ضمانت منظور
منی لانڈرنگ کے اس معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سابق وزیر عالمگیر عالم اور ان کے پی اے سنجیو لال کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے پیر کی صبح منی لانڈرنگ کے معاملے میں جھارکھنڈ کے سابق دیہی ترقی کے وزیر عالمگیر عالم اور ان کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) سنجیو لال کو بڑی راحت دیتے ہوئے ضمانت دے دی۔ عالمگیر عالم کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 15 مئی 2024 کو ٹینڈر کمیشن گھپلے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ یہ کارروائی ان کے قریبی ساتھیوں کے ٹھکانوں پر کی گئی چھاپے ماری میں 32.20 کروڑ روپئے سے زیادہ کی نقد برآمدگی کے بعد کی گئی تھی۔
غور طلب ہے کہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سابق وزیر عالمگیر عالم اور ان کے پی اے سنجیو لال کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران سابق وزیر عالمگیر عالم کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی براہ راست الزام نہیں ہے اور نہ ہی ان کے یہاں سے کسی طرح کی کوئی رقم برآمد ہوئی تھی۔ اس لیے انہیں راحت ملنی چاہئے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر کے وکلا نے ان کی بیماری کا بھی حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی اپیل کی۔
حالانکہ ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر عالمگیر عالم کو بھی ٹینڈر الاٹمنٹ کے بعد کمیشن پر پیسہ ملا تھا۔ ان کے پی اے سنجیو لال کے یہاں سے برآمد ہونے والی ایک ڈائری میں یہ لکھا گیا تھا کہ وزیر کو بھی کمیشن کا پیسہ دیا جاتا ہے۔ اس لیے انہیں راحت نہیں دی جا سکتی ہے۔
عالمگیر عالم کی ضمانت کے معاملے میں اس سے پہلے 2 اپریل کو بھی سماعت ہوئی تھی جس میں تفتیشی ایجنسی نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ میں ابھی 4 اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا باقی ہیں، ایسے میں ملزمین کو رہا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ای ڈی نے عدالت کے سامنے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر ان ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے تو وہ باہر نکل کر گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں یا ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے انہیں ضمانت دے دی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
