’انتخاب ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا‘، وزیر اعظم مودی کی ’بچت اپیل‘ پر اکھلیش یادو کا سخت ردعمل

اکھلیش یادو ’ایکس‘ پر طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ’’اتنی ساری پابندیاں عائد کرنی پڑیں تو 5 ٹرلین ڈالر کی جملہ والی معیشت کیسے بنے گی؟ لگتا ہے بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے لگام پوری طرح چھوٹ گئی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی ایشیا میں گہرے ہوتے بحران اور گلوبل انرجی مارکیٹ پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر وزیر اعظم مودی نے اتوار (10 مئی) کو لوگوں سے ورک فرام ہوم، کم تیل کے استعمال، کم غیر ملکی سفر اور سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی کے اس بیان پر سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’انتخاب ختم ہوتے ہی بحران یاد آ گیا !‘ کے عنوان سے ایک طویل پوسٹ کی۔ وہ بی جے پی کو ملک کے لیے سب سے بڑا بحران قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’اتنی ساری پابندیاں عائد کرنی پڑیں تو 5 ٹرلین ڈالر کی جملہ والی معیشت کیسے بنے گی؟ لگتا ہے بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے لگام پوری طرح چھوٹ گئی ہے۔ ڈالر آسمان چھو رہا ہے اور ملک کا روپیہ تنزلی کا شکار ہے۔‘‘

اکھلیش یادو نے ’ایکس‘ پوسٹ میں وزیر اعظم مودی کی ’بچت اپیل‘ کی ویڈیو بھی شیئر کی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’سونا نہ خریدنے کی اپیل عوام سے نہیں، بی جے پی کو اپنے بدعنوان لوگوں سے کرنی چاہیے کیونکہ عوام تو ویسے بھی 1.5 لاکھ تولے کا سونا نہیں خرید پا رہی ہے۔ بی جے والے ہی اپنی کالی کمائی کو سونے میں تبدیل کرنے میں لگے ہیں۔ ہماری بات غلط لگ رہی ہے تو لکھنؤ سے لے کر گورکھپور تک معلوم کر لیجیے یا احمدآباد سے لے کر گواہاٹی تک۔‘‘


اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’ویسے ساری پابندیاں انتخاب کے بعد ہی کیوں یاد آئی ہیں؟ بی جے پی والوں نے انتخاب میں ہزاروں چارٹرڈ طیاروں کے ذریعہ ہوائی سفر کیے، کیا وہ پانی سے اُڑ رہے تھے؟ وہ کیا ہوٹلوں میں نہیں ٹھہر رہے تھے یا سلنڈر کی تصویر لگا کر کھانا بنا کر کھا رہے تھے؟ بی جے پی والوں نے انتخاب میں ہی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ تشہیر کیوں نہیں کی؟ ساری پابندیاں عوام کے لیے ہی ہیں کیا؟‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس طرح کی اپیل سے تجارت اور بازار میں مندی یا مہنگائی کے خدشے کے سبب خوف کی وجہ سے گھبراہٹ، بے چینی اور مایوسی پھیل جائے گی۔ حکومت کا کام اپنے بے پناہ وسائل کا صحیح استعمال کر کے ایمرجنسی حالات سے نکالنا ہوتا ہے، خوف یا افراتفری پھیلانا نہیں۔‘‘

اکھلیش یادو کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’پیارے ہم وطنو، انتخابات تک مودی جی نے آپ کا بوجھ اٹھایا، انتخاب ختم آپ کا استعمال ختم۔ اب حب الوطنی کے نام پر قطار میں لگ جاؤ۔ گیس مہنگی ہو گئی، اب پٹرول-ڈیزل مہنگا ہوگا۔ آپ حب الوطنی کے نام پر پٹرول، ڈیزل اور گیس کا استعمال نہ کرو، سونا نہ خریدو، کھانے کے تیل کا بھی استعمال نہ کرو۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ریلیوں میں لاکھوں لوگوں کو بھر بھر کر لائیں گے، غیر ملکی دورے کریں گے، خوب تیل پھونکیں گے، ان کے لوگ سونا تو کیا پورے ملک کی جائیدادیں خرید لیں گے لیکن آپ کنگال بنے رہیے۔ اور ہاں اگر آپ نے مودی جی کی مہنگائی برداشت نہیں کی تو اندھ بھکت اور گودی میڈیا آپ کو پاکستانی قرار دے دے گا۔‘‘ 

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔