بحر اوقیانوس میں کروز جہاز پر ’ہنٹا وائرس‘ پھیلنے کا اندیشہ، 3 مسافروں کی موت، متعدد زیرعلاج
متاثرہ کروز شپ ارجنٹینا سے کیپ ورڈے کی طرف جارہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ نیدر لینڈ کے جھنڈے والا ایک مسافر جہاز ہے جو اتوار کی رات کیپ ورڈے کی راجدھانی پریا کی بندرگاہ پر کھڑا ہوا تھا۔

بحر اوقیانوس میں ایک کروز جہاز پر ہنٹا وائرس پھیلنے کا مشتبہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز بتایا کہ اس بیماری سے اب تک 3 لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور 3 دیگر لوگ بیمار ہیں۔ جانچ میں اب تک ہنٹا وائرس کے ایک معاملے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایک مریض کا جنوبی افریقہ کے اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ ادارۂ صحت افسران کے ساتھ مل کر جہاز سے 2 دیگر بیمار مسافروں کو نکالنے کی کوشش کررہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہنٹا وائرس عام طور پر متاثرہ چوہوں کے فضلے یا پیشاب کے رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے سرکاری طور پر جہاز کے نام کا انکشاف نہیں کیا ہے حالانکہ جنوبی افریقی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ ’ایم وی ہانڈیس‘ نامی جہاز پر ہوا ہے۔ یہ جہاز کروز شپ ارجنٹینا سے کیپ ورڈے کی طرف جارہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ نیدر لینڈ کے جھنڈے والا ایک مسافر جہاز ہے۔ اتوار کی رات یہ کیپ ورڈے کی راجدھانی پریا کی بندرگاہ پر کھڑا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر ہی اثر دار علاج ممکن ہے۔ ایم وی ہاڈیس جہاز پر اس وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے مسافروں اور عملے میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ جہاز کے سفر کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے انفیکشن کنٹرول کے مناسب انتظامات کئے گئے ہیں۔ متاثرہ افراد کو فوری طور سے طبی سہولت مہیا کرائی گئی ہے اور وائرس کو روکنے کے لیے کورنٹائن ضوابط سے نافذ کئے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے بتایا کہ ’’ہم اس بحران کی سنگینی کو سمجھتے ہیں اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی طبی اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ مسافروں کی صحت کی حفاظت سر فہرست ہے۔
اس سلسلے میں ماہرین نے مسافروں کو ہوشیاری برتنے اور کسی بھی طرح کے غیرمعمولی علامات نظر آنے پر فوری طبی مشاورت کرنے کی صلاح دی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بھی اس پر زور دیا ہے کہ سفر کے دوران صحت، صفائی اور حفاظتی ہدایات پر پوری طرح عمل کرنا ضروری ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
